Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / سعودی عرب کو لاس اینجلس، لندن، جنیوا اور پیرس نہیں چاہئے

سعودی عرب کو لاس اینجلس، لندن، جنیوا اور پیرس نہیں چاہئے

عصری تہذیب والے شہروں کے بجائے اسلامی قرآن و سنت کی روشنی میں بستیاں بسانے کی ضرورت : خالد الفیصل

مکہ مکرمہ 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے واضح کیا ہے کہ ہمیں عصری تہذیب کے نمائندہ شہر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات، اقدار کی نمائندہ بستیاں مطلوب ہیں۔ ہمیں لاس اینجلس، لندن، جنیوا اور پیرس جیسے شہر نہیں بلکہ قرآن و سنت کے نمائندہ عصری شہر درکار ہیں۔ اُنھوں نے توجہ دلائی کہ ہمیں 22 ویں صدی کی طرف چھلانگ لگانا اور اس کی تیاری کرنا ہے۔ انھوں نے شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کے قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائرکٹر احمد لنجاوی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بات کہی جو اُن سے ملاقات کے لئے یہاں آئے تھے۔ خالد الفیصل نے کہاکہ ہم لاس اینجلس، جنیوا، لندن اور پیرس جیسے شہر نہیں چاہتے۔ ہم ایسے شہر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں پہنچ کر ہمیں یہ احساس ہوکہ ہم اسلام کے نمائندہ ملک سعودی شہر میں گھوم پھر رہے ہیں۔ اُنھوں نے شاہ عبداللہ اکنامک سٹی مرکز میں تعمیر کی جانے والی مثالی اسمارٹ مسجد کی تعریف کی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کا شاندار تصور ہے۔ یہ ہر مرحلے میں فن تعمیر کا ایک نمونہ ہوگی۔ اس میں نمازی آرام و سکون محسوس کریں گے۔ اس میں اسمارٹ آلات، ایرکنڈیشنڈ اور بجلی نمازیوں کی تعداد کے مطابق خرچ ہوگی۔ نمازیوں کی تعداد جوں جوں گھٹے گی ویسے ویسے بجلی کا خرچ بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔ مسجد کے متعدد حصوں میں ماحول دوست توانائی استعمال ہوگی۔ اکنامک سٹی کی ہر مسجد میں اذان سنٹر کے توسط سے ہوگی۔ اذان کی آواز شہر کے ایک ایک حصے تک پہنچے گی۔ پانی کم خرچ کرنے والی ٹوٹیاں لگائی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT