سعودی عرب کو نیوکلیئر ہتھیار فروخت کرنے کی تردید

اسلام آباد۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ان اطلاعات کے دوران کہ سعودی عرب نے اپنے قریبی حلیف پاکستان سے نیوکلیئر خریدنے کا اہم فیصلہ کرلیا ہے، حکومت پاکستان نے آج ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام خالص اس کے اپنے دفاع اور موثر اق

اسلام آباد۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ان اطلاعات کے دوران کہ سعودی عرب نے اپنے قریبی حلیف پاکستان سے نیوکلیئر خریدنے کا اہم فیصلہ کرلیا ہے، حکومت پاکستان نے آج ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام خالص اس کے اپنے دفاع اور موثر اقل ترین مزاحمت کیلئے ہے۔ لندن کے اخبار ’’سنڈے ٹائمس‘‘ نے حال ہی میں نامعلوم امریکی عہدیداروں کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے نیوکلیئر ہتھیار خریدنے کا ’’حکمت عملی فیصلہ‘‘ کرلیا ہے۔ قاضی خلیل اللہ نے ’’سنڈے ٹائمس‘‘ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اُس کی اپنی سلامتی کیلئے ہے اور نیوکلیئر پروگرام پر ایک مستحکم کمان اور کنٹرول سسٹم بھی ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر ملک کی ذمہ داریوں سے واقف ہے۔

انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے مابین نیوکلیئر معاملت کی اطلاع کو مسترد کردیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے تعلق سے بین الاقوامی میڈیا میں مکمل بے بنیاد اور شرارت پر مبنی مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عدم پھیلاؤ کے مقاصد اور نیوکلیئر سیفٹی و سکیورٹی کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، یمن کے تنازعہ کے تعلق سے سعودی عرب سے ربط میں ہے اور ربط میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی یمن کی جانب سے سعودی عرب کے شہر نجران میں شلباری پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس علاقہ میں تقریباً 15 ہزار پاکستانی مقیم ہیں اور پاکستان نے سعودی حکام سے کہا ہے کہ اُن کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ یمن کے تنازعہ پر پاکستان نے سعودی عرب کو فوج بھیجنے سے گریز کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT