Tuesday , September 18 2018
Home / Top Stories / سعودی عرب کو یمن میں مجرمانہ کارروائیاں روکنا ضروری : خامنہ ای

سعودی عرب کو یمن میں مجرمانہ کارروائیاں روکنا ضروری : خامنہ ای

تہران ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے قدیم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی زیرقیادت اتحادی افواج کی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطہ میں سعودی عرب کا یہ اقدام ناقابل قبول ہے اور میں سعودی عرب کو خبردار کرتا ہوں کہ اسے یمن میں اپنی ان مجرمانہ حرکتوں کو روکنا

تہران ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے قدیم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی زیرقیادت اتحادی افواج کی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطہ میں سعودی عرب کا یہ اقدام ناقابل قبول ہے اور میں سعودی عرب کو خبردار کرتا ہوں کہ اسے یمن میں اپنی ان مجرمانہ حرکتوں کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی سرکاری ویب سائیٹ پر ایک بیان میں سعودی حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کو جتنا جلد ممکن ہوسکے اپنی مجرمانہ کارروائیوں کو روکنا ہوگا۔ اس اتحاد میں 9 عرب ممالک شامل ہیں۔ امریکہ کی حمایت میں سعودی عرب یمن کے باغیوں پر حملہ کررہا ہے۔ 26 مارچ سے شروع کردہ اس فوجی کارروائی کا مقصد حوثی قبائیلیوں کی پیشقدمی کو روکنا ہے۔ یمن میں سعودی حکومت یہی کام غزہ پٹی میں یہودی حکومت کررہی ہے۔

یہ قتل عام ہے۔ نسل کشی اور بین الاقوامی جرم ہے۔ مکانات، انفراسٹرکچر اور دولت کی تباہی پر افسوس کرتے ہیں۔ بلاشبہ سعودی عرب کو بھی بھاری نقصان ہوگا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ سعودی عرب نے اپنی کارروائیوں کو نہیں روکا تو اس کو پھر نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی دوران ایران کے اعلیٰ قائد نے آج مغربی ممالک کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کے فریم ورک کی توثیق کرنے سے انکار کردیا۔ یہ معاہدہ گذشتہ ہفتہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طئے پایا تھا۔ ایران کو فوری طور پر اس معاہدہ کی توثیق کرنا ہے۔ اس کا کہنا ہیکہ اپنے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق تمام تحدیدات ہٹا لینا چاہئے۔ 30 جون تک اس معاہدہ کو قطعیت دی جانے کی توقع ہے لیکن حسن روحانی نے مطالبہ کیا کہ ایران پر عائد کردہ تمام تحدیدات کو برخاست کردیا جانا چاہئے۔ ہم اس وقت تک معاہدہ پر دستخط نہیں کریں گے تاوقتیکہ تمام معاشی تحدیدات ہٹا لئے جائیں۔ ایران اور دنیا کے 6 طاقتور ملکوں نے گذشتہ ہفتہ سوئٹزرلینڈ میں نیوکلیئر معاہدہ کا ایک فریم ورک تیار کیا ہے جس کا مقصدایران کو نیوکلیئر کی حامل ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے باز رکھنا ہے۔

یمن میں سعودی قیادت میں فضائی حملے فاش غلطی : روحانی
تہران 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے صدر نے آج سعودی عرب اور اُس کے حلیف ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ یمن میں جو فضائی حملے کئے جارہے ہیں وہ سعودی عرب کی سب سے بڑی غلطی ہے لہذا فضائی حملوں کے سلسلہ کو فوری طور پر مسدود کیا جائے۔ صدر حسن روحانی نے اس نوعیت کی ’’مہمات‘‘ کو غلط قرار دیا جس کے لئے اُنھوں نے شام اور عراق کی مثال بھی دی۔ بہرحال اُنھوں نے کسی بھی ملک کا نام لئے بغیر صرف سعودی عرب سے کہاکہ جلد ہی اُس کو معلوم ہوجائے گا کہ یمن میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک فاش غلطی ہے۔ اُنھوں نے یمن میں فوری جنگ بندی اور بحران کی یکسوئی کے لئے وسیع تر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ دو ہفتوں سے سعودی کی قیادت والی افواج یمن پر فضائی حملے کررہی ہے تاکہ مبینہ ایران کی تائید والے شیعہ حوثیوں کو یمن پر قبضہ کرنے سے روکا جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حوثی باغیوں نے عرب جزیرہ نما کے بیشتر حصوں پر قبضہ جما رکھا ہے جبکہ ایران اور باغیوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ (ایران) باغیوں کو مسلح کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT