Thursday , July 19 2018
Home / عرب دنیا / سعودی عرب کی غیراوپیک ممالک سے تعاون کی اپیل

سعودی عرب کی غیراوپیک ممالک سے تعاون کی اپیل

موجودہ معاہدہ میں 2018ء کے بعد بھی توسیع دینے کی خواہش:وزیرتیل سعودی عرب
مسقط۔21جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفلیہ نے آج اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان جو 2018ء کے بعد بھی خام تیل کی پیداوار میں مصروف ہیں تعاون میں اضافہ کی اپیل کی اور اس سلسلہ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے ایک معاہدے کا تذکرہ کیا ‘ تاکہ خام تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کوششوں کو صرف 2018ء تک ہی محدود نہیں کرنا چاہیئے ۔ ہم ایک طویل مدتی نیٹ ورک برائے تعاون کے خواہاں ہیں ۔ فلیہ نے کہا کہ اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان مسقط میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ یہ پہلی بار ہوگی جب کہ اوپیک ممالک کی قیادت کرنے والا سعودی عرب واضخ طور پر 2016ء کے معاہدہ کو جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان ہوا تھا ‘ توسیع دینا چاہتا ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں کمی کی جاسکے اور تیل کی قیمت میں اضافہ ہوسکے ۔ اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے ایک تاریخی معاہدہ 2016ء میں کیا تھا جس کے تحت پیداوار کو 18لاکھ بیارل روزآنہ سے زیادہ نہ کرنے کا عہد کیا گیا تھا ‘تاکہ زبردست حدسے زیادہ سربراہی کا انسداد ہوسکے اور خام تیل کی قیمتوں میں انحطاط کو روکا جاسکے ۔ ابتداء میں یہ معاہدہ صرف چھ ماہ کی مدت کا تھا لیکن 14رکن ممالک اور 10 آزاد پیداوار کنندہ ممالک نے اس میں سال کے آخر تک توسیع کردی تھی ۔ فلیہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس چوکھٹے کی توسیع میں اضافہ کرنا چاہتے ہے ‘اسکا آغاز ہوچکا ہے ۔ تعاون کا اعلامیہ 2018ء کے بعد بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تعاون کا نیا چوکھٹا ممکن ہے کہ موجودہ معاہدے اور اس کی پیداوار کے کوٹہ سے مختلف ہو لیکن اس کا یقینی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک ایک بیارل شمار کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے تیل کی قیمت میں صحت مند اضافہ ہوگا جو فی الحال 70 ڈالر فی بیارل ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا ک اس کا مطلب یہ ہے کہ شعبہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد ‘ سرمایہ کاری ‘ صارفین اور عالمی برادری کو یہ بتادیا جائے کہ معاہدہ برقرار رہنے والا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT