Wednesday , December 13 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب کے مقبول عالم دین کے ٹوئیٹر تحریروں پر امتناع

سعودی عرب کے مقبول عالم دین کے ٹوئیٹر تحریروں پر امتناع

رائے عامہ مشتعل اور امن عامہ کو خطرہ، خصوصی فوجداری عدالت نے عوض القرنی کو مجرم قرار دیا، 100,000 ریال جرمانہ عائد
ریاض ۔ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ایک سرکردہ عالم دین اور اسلامی مذہبی رہنما کو ایک مقامی عدالت نے امن عامہ میں بدنظمی پیدا کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی طرف سے ٹوئیٹر پر پیغامات تحریر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ عوض القرنی کے ٹوئیٹر پر 20 لاکھ سے زائد حامی، مداح اور پیرو ہیں۔ قرنی کو قبل ازیں مصر کی ممنوعہ اسلامی تنظیم اخوان المسلمون کے ساتھ روابط کرنے کا ملزم قرار دیا گیا تھا۔ سعودی روزنامہ عکاز نے یہ خبر دیتے ہوئے مزید لکھا ہیکہ ان پر 100,000 سعودی ریال (تقریباً 27000 امریکی ڈالر) کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ بعدازاں عوض القرنی نے جمعہ کی صبح ٹوئیٹر پر کھا کہ ’’مجھے لکھنے سے روک دیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے حامیوں اور مداحوں سے چاہت و وابستگی پر اظہارتشکر بھی کیا ہے۔ برطانوی اسکالر ٹوبی میتھین نے لکھا کہ قرنی، صحوہ تحریک کے سرکردہ علماء میں شامل ایک اہم عالم ہیں۔ اسلامی علوم اور اسلامی مذہبی تحریکوں کے ایک اور ممتاز مغربی ماہر اسٹیفائن لاکروئیس کے مطابق ’’محوہ تحریک 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران سعودی عرب میں ایک اسلامی تحریک کی ایک جدت پسند قسم کی حیثیت سے ابھری تھی جس کے وسیع تر اثرات مرتب ہوئے اور اس کے بانیوں میں جلاوطن مسلم اخوان شامل تھے‘‘۔ سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات نے اخوان کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔ عکاز نے کہا کہ ریاض کی  ایک خصوصی فوجداری عدالت نے جو دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے، اس اسلامی مبلغ کو ٹوئیٹر پر ایسا مواد پھیلانے کے جرم کا مرتکب قرار دی ہے، جس (مواد) سے رائے عامہ مشتعل ہوسکتی ہے اور اس سے امن عامہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس مقدمہ کی مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئیں لیکن روزنامہ عکاز نے کہا ہیکہ قرنی کو گرفتار کئے بغیر ان  کے خلاف یہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔ قرنی نے ٹوئیٹر پر لکھا ہیکہ ’’اس فیصلہ پر ہم نے اپیل دائر کی ہے‘‘۔ پیرس میں واقع سائنس پو یونیورسٹی کے لاکروئیس مملکت سعودی عرب کی اعلیٰ ترین مذہبی اتھاریٹی میں گذشتہ سال ڈسمبر کے دوران کی گئی تبدیلیوں سے مخالف صحوہ اور مخالف اخوان المسلمون رجحان کی توثیق ہوگئی ہے۔ 2010ء کے دوران مصر کی ایک عدالت نے قرنی پر اخوان المسلمون کو فنڈز فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT