Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / سعودی عرب ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دے گا

سعودی عرب ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دے گا

صحافی جمال خشوگی کے تعلق سے من گھڑت الزامات ‘ کوئی بھی دھمکی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی ‘ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد سعودیہ کا ردعمل

ریاض ۔ /14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے کہا کہ مملکت کے خلاف کوئی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کی خبروں کے درمیان صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے سعودی عرب پر تحدیدات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی ۔ اس کے فوری بعد شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب نے کہا کہ اگر ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا ۔ سعودی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے اشارہ دیئے جانے پر سعودی شیرمارکٹ میں گراوٹ کی اطلاع ہے ۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ ہمیشہ ہی بین الاقوامی اقتصادی نظام میں موثر اور فعال کردار ادا کررہا ہے ۔ سعودی عرب کا معاشی نظام مستحکم ہے ۔ اگر عالمی سطح پر معاشی صورتحال بگڑتی ہے تو اس کے بعد ہی سعودی عرب پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ سعودی عرب پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے ‘ سیاسی دباؤ کا استعمال کرنے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ہمارے خلاف کوئی بھی دھمکی اور جھوٹے الزامات ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتے ۔ سعودی عرب اور اس کی عوام کے علاوہ حکمراں ہر مشکل کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ عالم اسلام ‘ عرب دنیا اور عالمی سطح پر سعودی عرب کا جو مقام ہے اور اس کے مضبوط کردار پر کوئی فر ق نہیں آئے گا ۔ سعودی عرب کے خلاف چلائی جارہی گمراہ کن مہم کے تعلق سے سعودی عہدیداروں نے کہا کہ موجودہ مہم کا حشر بھی وہی ہوگا جو ماضی میں اس طرح کی حرکتوں کا ہوتا رہا ہے ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو اپنے ملک کے حلیف سعودی عرب کودھمکی دی تھی کہ اگر خشوگی کو استنبول کے سعودی سفارتخانہ میں ہلاک کیا گیا ہے تو سخت سزاء دی جائے گی ۔ ترکی نے سعودی عرب پر دباؤ بنائے رکھا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب صحافی کی گمشدگی کی تحقیقات میں تعاون نہیں کررہا ہے ۔ ترکی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہمارا ایقان ہے کہ سعودی صحافی سفارتخانے کے اندر ہلاک ہوا ہے ۔ یہ دعویٰ میڈیا کے ذریعہ سامنے آیا ہے ۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ خشوگی محفوظ طور پر سفارتخانہ سے باہر چلے گئے۔ اس نے قتل کے الزامات کو مسترد کردیا ۔

قطر پریس سنٹر کو لاپتہ خشوگی کے بارے میں فکر
دیانتدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ ‘ سعودی عرب پر آزادی اظہار کو کچلنے کا الزام
دوحہ ۔ 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قطر پریس سنٹر نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی ہے وہ سعودی قونصل خانہ استنبول میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا اور اطلاع ملی ہے کہ اسے قونصل خانہ میں بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔مرکز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سے قبل ساتھی خشوگی کے مشتبہ طور پر لاپتہ ہوجانے کے بارے میں تبدیلیوں پر عظیم تشویش پیدا ہوئی تھی۔ پہلے ہی دن سے اور تنازعہ اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے تھے جن کی وجہ سے یہ معاملہ دنیا بھر کے لئے دلچسپ ہوگیا۔ کیو این اے نے اس کی خبر دی ہے۔ مرکز نے انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ خشوگی کے لاپتہ ہو جانے کے مسئلہ پر مستحکم موقف اختیار کریں۔ دیانتدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں تاکہ صداقت ظاہر ہوسکے اور اس معاملہ میں ملوث افراد کی نشاندہی ہوسکے جنہوں نے سیاسی مفادات کی بنا پر یہ کام کیا ہے۔مرکز نے کہا کہ وہ ساتھ ہی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے سے متعلق تمام مابعد تبدیلیوں پر نظر رکھنا جاری رکھے گا جب تک کہ صورتحال کی یکسوئی نہ ہوجائے اس نے کہا کہ ہم گہری تشویش کے ساتھ ساتھ ہی خشوگی کے حشر پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ تیز رفتار تبدیلیاں ختم ہو جائیں گی اور دنیا کو سچی بات کسی شک و شبہ کے بغیر بتادی جائے گی۔ اپنے بیان میں قطر پریس سنٹر نے ایسی کسی بھی کوشش کی مذمت کی جو وقت ضائع کرنے یا مقدمہ کی سنگین نوعیت کو کم کرنے کے لئے کی جائے اور اس کے بعد اس معاملہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ صحافیوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے موقف کی مذمت کی جانی چاہئے اور صحافیوں پر تحدید عائد کرنا بند کیا جانا چاہئے۔ اس نے امید ظاہر کی کہ تحقیقاتی ادارے حالات کا انکشاف کریں گے اور ساتھ ہی خشوگی کے حشر کا عاجلانہ بنیاد پر اعلان کریں گے اور خاطیوں کو جو ان کے لاپتہ ہو جانے کے ذمہ دار ہیں شفافیت کے ساتھ سزا دلوائیں گے۔ خاص طور پر کیونکہ یہ واقعہ پوری دنیا کو پیغام دے گا کہ ابھی دنیا میں آزاد صحافی موجود ہیں اور یہ واقعہ بنیادی بین الاقوامی قوانین کی انتہائی خلاف ورزی ہے۔ اس سے بین الاقوامی انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے آزادیٔ اظہار کے حق کے بارے میں کنونشنس کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT