Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / سعودی مذہبی پولیس پر بدعنوانیوں کے الزامات مسترد

سعودی مذہبی پولیس پر بدعنوانیوں کے الزامات مسترد

ریاض۔15 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ۔ سعودی عرب کی مذہبی پولیس محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ شیخ عبداللطیف آل شیخ نے اپنے محکمے میں مالی بدعنوانیوں سے متعلق رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔آل شیخ نے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرمیں بدعنوانیوں سے متعلق رپورٹس کو افواہیں قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بدعنوانی کا کوئی ایک کیس ی

ریاض۔15 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ۔ سعودی عرب کی مذہبی پولیس محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ شیخ عبداللطیف آل شیخ نے اپنے محکمے میں مالی بدعنوانیوں سے متعلق رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔آل شیخ نے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرمیں بدعنوانیوں سے متعلق رپورٹس کو افواہیں قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بدعنوانی کا کوئی ایک کیس یا صرف ایک ریال کی کرپشن بھی سامنے آتی ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔انھوں نے مذہبی پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ادارے میں اصلاحات کے مخالف ہیں،وہی کرپشن کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔سعودی اخبار الریاض میں جمعہ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق شیخ عبداللطیف نے کہا کہ مذہبی پولیس سے جن اہلکاروں کو ناقص کارکردگی یا ناروا کردار کی بنا پر فارغ کیا گیا تھا،

وہی لوگ اب بدعنوانیوں کی افواہیں پھیلا رہے ہیں اور مایوس ہوکر محکمے کا تشخص داغدار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ اگست 2013ء میں سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے مذہبی پولیس میں مبینہ بدعنوانیوں اور خلاف ورزیوں سے متعلق ایک درخواست موصول ہونے کی اطلاع دی تھی۔سعودی عرب کے قومی انسداد بدعنوانی کمیشن کے ایک ذریعے نے تب بتایا تھا کہ انھیں مذہبی پولیس میں بدعنوانیوں اور ضابطے کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ مذہبی پولیس پر قواعد وضوابط کی خلاف ورزیاں کے جو الزامات عاید کیے گئے تھے،ان میں سے ایک کا تعلق دارالحکومت ریاض میں شاہ فہد روڈ پر واقع ایک ٹاور کو کرائے پر لینے کے لیے ایک رئیل اسٹیٹ فرم سے معاہدے سے ہے۔ اس معاہدے کے تحت اس ٹاور کو مبینہ طور پر ایک کروڑ اٹھہتر لاکھ ریال پر کرائے پر لیا گیا ہے حالانکہ اسی عمارت کو اس سے پہلے سعودی عرب کی وزارت ہاؤسنگ نے ڈیڑھ کروڑ ریال کرائے پر لے رکھا تھا۔ اس درخواست میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ کمیشن کے ایک عہدے دار نے آٹھ لاکھ ریال قرضہ وصول کیا تھا۔اس میں سے چار لاکھ کی رقم ”انٹلیکچوئل سکیورٹی ٹریننگ پروگرام” کے لیے مختص کی گئی تھی۔

سعودی روزنامے عکاظ میں اس وقت شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی اس تربیتی پروگرام کا اہتمام کرنے کی ذمے دار تھی اور قرضہ وصول کرنے والے کمیشن کے عہدے دار کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کے ترجمان ترکی آل شلیل نے ان تمام الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مذہبی اتھارٹی کی حیثیت اور شہرت کو داغدار کرنا ہے۔ترجمان نے کہا کہ کمیشن کا جنرل سیکرٹریٹ غلط رپورٹس پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ کمیشن کے سربراہ شیخ عبداللطیف آل شیخ کا عہدہ حکومتی وزیر کے برابر ہے اور وہ براہ راست شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو جوابدہ ہیں۔کمیشن کے ملازمین کی تعداد چھے ہزار کے لگ بھگ ہے۔وہ بازاروں میں اور شاہراہوں پر گشت کرکے لوگوں کے کردار پر نظر رکھنے کے ذمے دار ہیں اور وہ اسلامی شریعت کے منافی کردار کے حامل افراد کو گرفتار کرکے سزائیں دلا سکتے ہیں۔ عبداللطیف آل شیخ نے دسمبر کے آخر میں العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ شریعت کے نفاذ کے عمل میں اعتدال کی راہ پر چلیں گے۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے محکمے میں بعض انتہا پسند موجود ہیں جو بغاوت کے بیج بونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم ان کے ساتھ قانون اور قواعد وضوابط کے مطابق معاملہ کریں گے۔انھوں نے خبردار کیا تھا کہ جو کوئی بھی بغاوت کے بیج بوئے گا تو اس کا ہم صفایا کردیں گے۔ یادرہے کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شیخ عبداللطیف آل شیخ کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کے بعد مذہبی پولیس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔اس ویڈیو میں مذہبی پولیس کے اہلکاروں کو ایک خاندان کو شاپنگ مال میں ہراساں کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس طرح کے واقعات میں سعودی مذہبی پولیس پر اختیارات سے تجاوز کے بھی الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں لیکن جنوری 2012ء میں عبداللطیف بن عبدالعزیز آل شیخ کے مذہبی پولیس کے سربراہ کے طور پر تقرر کے بعد سے اس کے اہلکار زیادہ محتاط ہوچکے ہیں اور انھوں نے غیر نشان دار کاروں کے استعمال پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT