Sunday , November 19 2017
Home / عرب دنیا / سعودی مطالبات قبول کرنے سے قطر کے انکار کے بعد خلیجی بحران مزید پیچیدہ

سعودی مطالبات قبول کرنے سے قطر کے انکار کے بعد خلیجی بحران مزید پیچیدہ

پابندیاں عائد کرنے ریاض کا انتباہ، دوحہ اپنے موقف پر اٹل، کویت کی مصالحتی مساعی جاری، امریکی وزیرخارجہ کا آئندہ ہفتہ دورہ

دبئی 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) علاقائی کشیدگی سے پہلے سے ہی متاثرمغربی ایشیا میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ۔ قطر نے ان چار عرب ملکوں کے جنہوں نے اس پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات لگاکرنے تعلقات توڑ لئے تھے ،تیرہ شرطوں پر مشتمل مطالبات کو ٹھکرا دیا ہے ۔قطر کے اس ردعمل سے پریشان چاروں عرب ملکوں نے اسے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے ۔عرب وزرا خارجہ کااستدلال ہیکہ قطر نے حالات کی سنجیدگی اور اہمیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے قطر کو اس موقف کے جواب میں نئے اقدامات کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور ایک مشترکہ بیان جاری کرکے کہا کہ 13 مطالبات کا کوئی جواب نہ ملنے پر اب قطر کے خلاف سیاسی، اقتصادی اور قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔چاروں نے بہر حال یہ نہیں بتا یا کہ قطر کے خلاف سیاسی اور اقتصادی اقدامات کی نوعیت کیا ہو گی۔ مطالبات میں الجزیرہ چینل بند کرنے ، ایران سے تعلق توڑنے اور دہشت گردی میں ملوث لوگوں کی حوالگی کے مطالبات شامل ہیں۔عربوں کے بائیکاٹ سے قطر محصور ہو کر رہ گیا ہے جسے قطر ی وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے توہین آمیز قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات ماننے سے قطر کے انکار کا جواب محاصرہ اور دھمکیاں نہیں مذاکرات اور معاملات کرنا ہے ۔واضح رہے کہ گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال قطر اپنی 27 لاکھ کی آبادی کے لیے تمام بنیادی ضروریات برآمد کرتا ہے ۔ایسے میں اس کا بری راستہ بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسے ہوائی اور سمندری راستوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پچھلے مہینے دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات کے بعدسے مذکورہ چاروں ممالک کے قطر کے ساتھ تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔قطران الزامات کی تردید کرتا ہے جو اس پر لگائے گئے ہیں ۔ اس نے سعودی عرب کی جانب سے الٹی میٹم تک کو مسترد کر دیا ہے ۔اس پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اگلے ہفتے کے اوائل میں کویت کا دورہ کریں گے جو اس خلیجی بحران میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ توقع ہیکہ کویت کے ثالثی کے کردار سے اس بحران کا خاتمہ نہیں تو کم سے کم اس کی شدت میں کمی ضرور ہوجائے گی جیسا کہ امریکہ نے چھ مسلم ممالک سے آنے والے مسلمانوں کی امریکہ میں آمد کے سخت امتناعی موقف کو نرم کیا اوراس کے بعد مختلف مسلم ممالک جن میں ترکی، قطر اور امارات شامل ہیں، کی قومی ایئرلائنز کے ذریعہ امریکہ کا سفر کرنے والے مسافروں کے الیکٹرانک آلات پر امتناع کو بھی برخاست کردیا۔ بالکل اسی طرح قطر کے سفارتی بحران کی یکسوئی بھی ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT