Saturday , December 15 2018

سعودی میں دو خاتون ڈرائیورس کا مقدمہ دہشت گردی عدالت کے سپرد

ریاض 25 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں انسانی حقوق کارکنوں نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی دو خواتین کو محروس کرنے کے بعد انہیں دہشت گردی سے متعلق ایک خصوصی ٹریبونل کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ ان خواتین کو آج عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبہ الحسا میں ان خواتین کا مقدمہ دہشت گردی عدالت کو منتقل کرنے کا فی

ریاض 25 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں انسانی حقوق کارکنوں نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی دو خواتین کو محروس کرنے کے بعد انہیں دہشت گردی سے متعلق ایک خصوصی ٹریبونل کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ ان خواتین کو آج عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبہ الحسا میں ان خواتین کا مقدمہ دہشت گردی عدالت کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ انسانی حقوق کارکن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی ۔ یکم ڈسمبر کو لوجین ہتھلول نامی خاتون کو حراست میں رکھا گیا تھا جبکہ اس نے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات سے کار ڈرائیو کرتے ہوئے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی ۔ سعودی عرب میں خواتین کے گاڑیاں چلانے پر امتناع ہے ۔ کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے کام کرنے والی ایک سعودی صحافی میسا العمودی بھی اس خاتون کی حمایت کیلئے آئی تھی اور اسے بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ سماجی کارکنوں نے ان دونوں خواتین کے خلاف عائد کردہ الزامات کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تحقیقات ان کی ڈرائیونگ سے زیادہ ان کی سوشیل میڈیا سرگرمیوں کے تعلق سے ہو رہی ہیں۔ ہتھلول کے مقدمہ سے واقفیت رکھنے والے ایک کارکن نے کہا کہ اس کا مقدمہ دہشت گردی عدالت کو منتقل کیا جائیگا اور اس کا وکیل اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔ ایک اور کارکن نے توثیق کی کہ العمودی کا مقدمہ بھی خصوصی ٹریبونل کو منتقل کیا جا رہا ہے ۔ اپنی گرفتاری سے قبل ہتھلول نے ٹوئیٹر پر پیامات بھیجے تھے جن میں اس نے سعودی عرب میں داخلہ سے قبل کے 24 گھنٹوں کی تفصیل بتائی تھی جب عہدیداروں نے اسے روک دیا تھا ۔ العمودی کے ٹوئیٹر پر 131,000 پرستار ہیں اور اس نے یو ٹیوب پر ایک پروگرام منعقد کرتے ہوئے خواتین کی ڈرائیونگ پر امتناع کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ سعودی عرب میں خواتین کے کار ڈرائیو کرنے پر امتناع عائد ہے ۔

TOPPOPULARRECENT