Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / سعودی کونسلیٹ کے قیام کیلئے حکومت سعودی عرب سے رجوع کرنے کا تیقن

سعودی کونسلیٹ کے قیام کیلئے حکومت سعودی عرب سے رجوع کرنے کا تیقن

حیدرآباد اور سعودی عرب کے دیرینہ روابط، سفیر سعودی کی محمد علی شبیر کی قیامگاہ پر معززین سے بات چیت
حیدرآباد۔/22اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اب جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی میعاد کو صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے وقف بورڈ کے آئندہ عہدیدار کے بارے میں تجسس پیدا ہوچکا ہے۔ حکومت کی سطح پر بھی چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد میں توسیع کے مسئلہ پر غور و خوض کیا جارہا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ کی میعاد 23 اکٹوبر کو ختم ہورہی ہے اور انہوں نے دو دن قبل ہی رخصت حاصل کرلی جس سے وقف بورڈ کے ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد کے مسئلہ پر ایک گروپ محمد اسد اللہ کی میعاد میں توسیع کی مخالفت کررہا ہے جبکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق اداروں کی جانب سے حکومت سے نمائندگی کی گئی کہ وقف بورڈ کو تباہی سے بچانے کیلئے محمد اسد اللہ کی میعاد میں توسیع کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ چیف منسٹر کے دفتر سے رجوع ہوچکا ہے اور چیف منسٹر نے محمد اسد اللہ کی میعاد میں توسیع کا اشارہ دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سلسلہ میں پیر یا منگل کو باقاعدہ احکامات جاری کئے جائیں گے۔ محمد اسد اللہ نے دیڑھ سال میں وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے اور انہوں نے کسی بھی دباؤ کو قبول کئے بغیر وقف ایکٹ کے تحت کارروائی کی اور بے قاعدگیوں میں ملوث متولیوں اور ملازمین کو نہیں بخشا۔ محمد اسد اللہ نے بعض متولیوں کے خلاف کارروائی کیلئے فائیل عہدیدار مجاز عمر جلیل کے پاس روانہ کی لیکن آج تک بھی ان فائیلوں کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ میں تقررات کے اسکام کی جانچ سے متعلق فائیل بھی عمر جلیل کے دفتر میں پڑی ہے لیکن اس پر کئی ماہ سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جو بھی فائیل عہدیدار مجاز کے قریبی افراد سے متعلق ہوتی ہے انہیں روک لیا جاتا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے سید عمر جلیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور وقف بورڈ میں اپنے قریبی افراد پر کافی مہربانیاں کی ہیں اور بدعنوانیوں میں ملوث افراد کو بھاری تنخواہ پر دوبارہ باز مامور کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ بعض کے خلاف پولیس کی تحقیقات میں قصور وار ثابت ہونے کے باوجود سکریٹری نے اس کا بچاؤ کیا اور تحقیقاتی فائیل کو برفدان کی نذر کرتے ہوئے اپنے قریبی شخص کا دوبارہ تقرر عمل میں لایا۔ حال ہی میں وقف بورڈ کے ایک معطل شدہ عہدیدار کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے عمر جلیل نے ایک سال کیلئے معقول تنخواہ پر باز مامور کیا۔ اس طرح اقلیتی اداروں میں قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے کئی افراد کی سرپرستی کی جارہی ہے اور اس طرح کے افراد بھی نہیں چاہتے کہ محکمہ میں کوئی دیانتدار عہدیدار موجود رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اسد اللہ کو ان کے متعلقہ محکمہ میں واپس کردیا جائے کیونکہ انہوں نے خود اس کی تحریری طور پر خواہش کی ہے تاہم ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مداخلت اور اسد اللہ کی کارکردگی سے چیف منسٹر کا اظہار پسندیدگی میعاد میں توسیع کا سبب بن سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT