Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / سعودی کی قدامت پسند شبیہہ بدلنے کی مساعی

سعودی کی قدامت پسند شبیہہ بدلنے کی مساعی

ولیعہد محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ

واشنگٹن ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے نوجوان ولیعہد محمد بن سلمان نے اپنے ملک کے تئیں کچھ اہم عزائم کر رکھے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کی قدامت پسندی کو عصریت سے تبدیل کردیا جائے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کو کمزور کیا جائے اور امریکی شہریوں کی نظر میں سعودی عرب کی شبیہہ کو بالکل بدل دیا جائے۔ ولیعہد محمد بن سلمان سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے فرزند ہیں اور تخت کے جانشین بھی۔ انہوں نے امریکہ کے دورہ کا پروگرام بنایا ہے جہاں وہ واشنگٹن میں توقف کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ سطحی اور بارسوخ اریکی عہدیداروں سے ملاقات بھی محمد بن سلمان کے پروگرام میں شامل ہے جن میں وزیردفاع، ٹریژری اور وزیرکامرس سے ملاقات کے علاوہ سی آئی اے سربراہ اور دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کانگریشنل قائدین سے بھی ولیعہد ملاقات کریں گے۔ محمد بن سلمان کو ان کے شاہی اور سیاسی حلقہ میں MBS کے نام سے جانا جاتا ہے جنہوں نے مغربی دنیا میں سعودی عرب کی بدلی ہوئی شبیہہ پیش کی ہے۔ قبل ازیں سعودی عرب کو ایک قدامت پسند ملک تصور کیا جاتا تھا لیکن ولیعہد نے حالیہ دنوں میں متعدد ’’اصلاحات‘‘ کا نفاذ کیا ہے جن میں سعودی خواتین کو کار ڈرائیونگ کرنے اور اسٹیڈیمس آکر میاچس دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ 1980ء سے بند کئے گئے سنیماہالس بھی دوبارہ کھلنے والے ہیں۔ اس موقع پر سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم بی ایس سعودی عرب کو ایک ایسا عام ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں ایک عام آدمی بھی عام طرز کی زندگی بڑے آرام سے گزار سکتا ہے۔ یاد رہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ سعودی پرنس محمد بن سلمان کا وائیٹ ہاؤس میں ’’سرخ قالین‘‘ استقبال کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT