Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / سعودی کے ویژن 2030ء کا مقصد ملک کی ترقی ،بدعنوانی و دہشت گردی کا خاتمہ

سعودی کے ویژن 2030ء کا مقصد ملک کی ترقی ،بدعنوانی و دہشت گردی کا خاتمہ

سعودی شہزادوں کی گرفتاریاں نئے دور کا آغاز ، وزیر خارجہ عادل الجبیر کا انٹرویو

ریاض؍نئی دہلی ۔ 8نومبر(سیاست نیوز) سعودی عرب دہشت گردی‘ شدت پسندی اور بدعنوانیوں کو قطعی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بخشا جائے جائے گا۔ سعودی عرب نے جو ویژن 2030 تیار کیا ہے اس کا مقصد ہی شدت پسندی‘ دہشت گردی اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کے ذریعہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر نے بین الاقوامی انگریزی چیانل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران یہ بات کہی اور کہا کہ سعودی حکومت عالمی برادری کو اعتماد میں لیتے ہوئے ویژن2030پر عمل پیرا رہے گی۔ انہو ںنے ایران کو دہشت گردی کا مددگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران دیگر ممالک میں اپنے تیار کردہ گروہ کے توسط سے مداخلت کررہاہے ۔ وزیر خارجہ سعودی عرب نے لبنان‘ بحرین‘ یمن‘ شام اور عراق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں بدامنی کیلئے ایران کی مدد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ عادل الجبیر نے سعودی عرب میں شہزادوں اور وزراء کو حراست میں لئے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے پاس موجود جواز کی بنیادپر ہی انہیں حراست میں لیا ہے اور ان کے خلاف جو بھی کاروائی کی جائے گی وہ شفاف ہوگی۔

انہوںنے اس کاروائی کے عالمی سرمایہ کاروں پر ہونے والے منفی اثرات کے قیاس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سعودی عرب کا یہ اقدام عالمی برادری کے اعتماد کا سبب بنے گا اور عالمی برادری کو اس اقدام کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ حکومت سعودی عرب شفاف طرز حکمرانی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے 2030کی سمت رواں دواں ہے اور کسی بھی بااثر شخصیت یا سرمایہ کار سے مرعوب نہیں ہے۔ وزیر خارجہ نے عرب خطہ میں بدامنی کی صورتحال کیلئے ایران کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران حزب اللہ کے ذریعہ یمن میں حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے اور گذشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت پر داغا گیا میزائل بھی ایران کا تیار کردہ ہے جو کہ یمن سے حزب اللہ کی مدد کے ذریعہ سعودی عرب پر داغا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کوئی پہلی مرتبہ اس طرح کا حملہ نہیں کیا ہے ۔ انہو ںنے دعوی کیا کہ داغے گئے میزائل میں المونیم اور کیبل ایران کے ہی ہیں یہ ثبوت سعودی عرب کے پاس موجود ہیں۔

انہو ںنے کہا کہ ایرانی دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ لبنان میں ایران سیاسی مداخلت کرتے ہوئے حزب اللہ کو مستحکم کر رہا ہے ۔وزیر خارجہ سعودی عرب نے لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری کے استعفیٰ میں سعودی رول کے الزام کو بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ نے سیاسی قائدین کی ہلاکتوں اور سیاسی جماعتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے سعد حریری نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ انہو ںنے ولی عہد سلطنت سعودی عرب محمد بن سلمان پر اقتدار کے استحکام کیلئے شہزادوں کی گرفتاریوں اور انہیں نظربند کئے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور سعودی عرب نے سلطنت کی مجموعی ترقی کی جو پالیسی تیار کی ہے اس پالیسی میں شدت پسندی ‘ بد عنوانی اور دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ سعودی عرب کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے اور ایران اس کے پس پردہ ہے ۔ ایران شام میں بدامنی پھیلانے کا مرتکب ہے‘ ایران یمن میں حوثی باغیوں کی مدد کرتے ہوئے انہیں ہتھیار پہنچا رہا ہے‘ ایران حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرتے ہوئے لبنان پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کئے ہوئے ہے۔ ایران بحرین اور عراق میں حالات کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سعودی۔ایران تعلقات کی کشیدگی اس وقت تک دور نہیں ہوسکتی جب تک ایران عالمی قوانین کو اختیار کرتے ہوئے ان کی پاسداری کا عہد نہیں کرتا۔

عادل الجبیر نے کہا کہ ایران ان حرکتوں کے ذریعہ دہشت گردی کے فروغ کا مرتکب بنتا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ سعودی عرب نے قطر کے مسئلہ کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر ہو یا کوئی اور مملکت جو دہشت گردی اور شدت پسندی کی تائید یا حمایت کرتی ہے اور انہیں مدد فراہم کرتی ہے تو سعودی حکومت ان سے کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔ سعودی عرب کی عین خواہش ہے کہ عرب خطہ ترقی سے ہمکنار ہو اور خطہ میں کوئی نفرت باقی نہ رہے بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی لائی جائے ۔ انہوں نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس چیانل کے ذریعہ دہشت گردوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتاہے کہ اور ان کا یہ طرز عمل نوجوانوں کی ذہن سازی کا سبب بن رہا ہے اسی لئے سعودی عرب ہر اس عمل کی مخالفت کرے گا جو دہشت گردی یا شدت پسندی کے فروغ کا سبب بنے گی خواہ حکومت کی جانب سے پشت پناہی کی جائے یا ذرائع ابلاغ ادارے دہشت گردی یا شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کریں۔ عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب جوابدہ اور شفاف حکمرانی کے فروغ کے لئے سنجیدہ اقدامات کررہاہے اور ان اقدامات کو عالمی برادری کی تائید کی مکمل توقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT