Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / سعودی ۔ ایران کشیدگی کم کرنے کی کوشش

سعودی ۔ ایران کشیدگی کم کرنے کی کوشش

وزیراعظم پاکستان نواز شریف کا دونوں ممالک کا ہنگامی دورہ
اسلام آباد، 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور طاقتور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف توقع ہے کہ پیر کو ایران اور سعودی عرب کا دورہ کریں گے تاکہ دو حریف مسلم ملکوں کے مابین کشیدگی کم کی جاسکے، دفتر وزیراعظم نے یہ بات بتائی۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کی پس پردہ بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ علاقہ میں ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کم ہو۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب میں شیعہ رہنما نمرالنمر کا سر قلم کیا گیا تھا، جس کے بعد ایران میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جہاں تہران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلئے۔ ایران نے بھی سعودی عرب کے ساتھ تمام تجارتی روابط ختم کرلئے اور عازمین کو مکۃ المکرمہ کے سفر سے روک دیا۔ دفتر وزیراعظم کے ایک عہدیدار نے کہا کہ نواز شریف پہلے ایران کا دورہ کریں گے جہاں وہ صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد اُسی دن وہ سعودی عرب جائیں گے جہاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں قائدین پر یہ واضح کریں گے کہ بڑھتی کشیدگی سے مسلم دنیا کے مسائل میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ نواز شریف کے ہمراہ دیگر اہم شخصیتوں میں اُن کے مشیر اُمور خارجہ سرتاج عزیز اور خصوصی معاون طارق فاطمی ہوں گے۔ توقع ہے کہ وہ منگل کو واپس ہوں گے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ انتہائی قریبی روابط ہیں لیکن گزشتہ سال اس نے یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سعودی عرب کی خواہش کو نظرانداز کردیا تھا۔ ان باغیوں کو مبینہ طور پر ایران کی تائید حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف 34 مسلم ممالک پر مشتمل جو اتحاد تشکیل دیا ہے، اس میں بھی پاکستان اپنی فوج شامل کرنے کیلئے تیار نہیں۔

TOPPOPULARRECENT