Thursday , December 13 2018

سعید اجمل کے کیریئر پر سوالیہ نشان

کراچی ۔ 15 ؍ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے حکام کے خیال میں بہت کم امکان ہے کہ عالمی شہرت یافتہ آف اسپنر سعید اجمل ورلڈ کپ میں پاکستانی منصوبہ بندی کا حصہ ہوں گے۔ پی سی بی کے سربراہ شہریار خان کے بموجب ورلڈ کپ کھیلنا سعید اجمل کے لئے آسان نہیں ہوگا ۔ اس کے باوجود پی سی بی نے سعید اجمل کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا کیریئر بچانے کے لئے انہیں عالمی معیار کے ماہرین اور دنیا کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بائیو میکانک رپورٹ میں تمام شواہد سعید اجمل کے خلاف ہیں لیکن سعید نے پی سی بی کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنا بولنگ ایکشن صحیح کرانے کے بعد ٹیم میں واپس آجائیں گے۔ پی سی بی نے بھاری معاوضے پر ایک ماہ کے لئے ماضی کے عظیم آف اسپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کی ہیں۔ بعد میں انہیں ایک ہفتے کے لئے آسٹریلیا بھیجاجائے گا ۔ برسبین کے نیشنل کرکٹ سنٹر میں سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا ایک اور معائنہ ہوگا ۔ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے پابندی لگنے کے بعد لاہور کی اکیڈمی میں پی سی بی کے ماہرین کو تفصیلات سے آگاہ کر دیاہے اور ہیڈ کوچ محمد اکرم سے ملاقات کی ہے۔ ان کے ایکشن کی بہتری کے لئے کام شروع ہوگیا ۔ پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان نے انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں سعید اجمل کا پورا بولنگ ایکشن آئی سی سی کے قواعد کی پابندی نہیں کرتا اور خلاف ورزی میں یہ دوگنا ہے ۔ تمام سائنٹیفیک شواہد ان کے خلاف ہیں اس کے باوجود ہم نے انہیں بھرپور مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں آئی سی سی اب میڈیکل بنیاد پر شواہد کو اہمیت نہیں دیتی۔ اگر ـآج مرلی دھرن ہوتے تو وہ بھی معطل ہوجاتے۔ شہریار خان نے کہا کہ بظاہر ان کے ایکشن کو چیلنج کرنے مشکل کام ہے کیوں کہ اس میں فائدہ دکھائی نہیں دیتا ۔ تاہم سعید اجمل ایکشن تبدیل کرنے کیلیے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں ایک ہفتہ گذارنے کے بعد ہم آئی سی سی سے کہیں گے کہ انہیں اجامت دلوانے کے لئے کس لیبارٹری میں بھیجا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر اپیل کرتا تو آئی سی سی انہی شواہد کو اہمیت دیتی جو برسبین کی لیبارٹری میں سامنے آئے ہیں اور ظاہر ہے وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT