Monday , November 20 2017
Home / دنیا / سفارتی بحران : دہشت گرد گروپس کو مالیہ کی فراہمی روکے جانے پر زور

سفارتی بحران : دہشت گرد گروپس کو مالیہ کی فراہمی روکے جانے پر زور

جی سی سی ممالک متحد رہیں ، امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہ سلمان کی ٹیلی فون پر بات چیت
واشنگٹن ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام) : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو جی سی سی ممالک کو متحد رہنا ہوگا ۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سعودی ، بحرین ، امارات اور مصر نے قطر کے ساتھ صرف اس لیے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے کہ ایران کے تئیں قطر نرم گوشہ رکھتا ہے ۔ وائیٹ ہاوس سے جاری ایک بیان میں بھی ٹرمپ اور شاہ سلمان کی بات چیت کی توثیق کی گئی کہ کس طرح دونوں قائدین نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے یا ان کی فنڈنگ کی روک تھام کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے ذریعہ کی جانے والی دہشت گردی کو ہرگز بردشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی مخصوص ملک کے بارے میں کچھ کہہ رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے فون کال کے دوران بار بار اس بات کو دہرایا کہ اس وقت جی سی سی ممالک کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے ورنہ دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کمزور پڑسکتی ہے ۔ دوسری جانب صبح کی اولین ساعتوں میں ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ بھی کیا ہے جس میں انہوں نے چار عرب ممالک کے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے عمل کو منصفانہ قرار دیا تاہم جی سی سی ممالک کا اتحاد بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

امریکہ نے اس وقت تمام ممالک سے مسلسل رابطہ بنا رکھا ہے ۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری شین اسپائسر نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اگر چار عرب ممالک کی قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حمایت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر موصوف جی سی سی ممالک کو متحد دیکھنا نہیں چاہتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ اگر دہشت گردی کی فنڈنگ بند ہوجائے تو سارے کے سارے راہ راست پر آجائیں گے ۔ کسی بھی تنظیم کے لیے مالیہ ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور اگر مالی امداد ہی بند کردی جائے تو سب ہیکٹری نکل جاتی ہے ۔ اسپائسر نے کہا کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی کے وقت انہوں نے ریاض میں امیر قطر سے انتہائی مثبت نوعیت کی بات چیت کی تھی اور اس وقت وہ امیر قطر کے اس وعدہ سے بے حد خوش ہوئے تھے جہاں انہوں نے ( امیر قطر ) دہشت گردوں کو مالیہ فراہم کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا اور اس بات کے خواہاں تھے کہ قطر بھی اس مہم کا حصہ بننا پسند کرے گا ۔ ایک علحدہ بریفنگ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہتھرنوریٹ نے کہا کہ امریکہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ قطر نے دہشت گرد گروپس کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں جن میں مشتبہ طور پر مالیہ فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ، اثاثہ جات کو منجمد کردینا اور ان کے بنکنگ نظام پر اپنا کنٹرول رکھنا جیسے اقدامات شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ قطر نے یہ سب کچھ ضرور کیا لیکن اتنا کرنا ہی کافی نہیں بلکہ قطر کو ہنوز بہت کچھ کرنا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT