Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / سفارتی بحران کی یکسوئی کیلئے کویت کی ثالثی کی پیشکش

سفارتی بحران کی یکسوئی کیلئے کویت کی ثالثی کی پیشکش

امیر کویت کی وزیرخارجہ قطر سے فو ن پر بات چیت، ہوا بازی صنعت کو بھی بحران کا اندیشہ

دوبئی ۔ 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) اس وقت خلیجی ممالک میں جو بحران چل رہا ہے اس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہیں جہاں امارات، مصر، بحرین اور سعودی عرب نے قطر سے سفارتی تعلقات منسوخ کرلئے ہیں اور یہاں تک فضائی روابط بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے قطر ایرویز کا لائسنس ہی منسوخ کردیا ہے اور اس طرح جن مسافرین کے ایسے ٹکٹس جو انہوں نے یوروپ کیلئے براہ دوحہ بک کروائے تھے انہیں اب یا تو اپنی اٹکٹیں منسوخ کروانی پڑیں گی یا پھر کوئی متبادل تلاش کرنا ہوگا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ اس بحران کے خاتمہ کیلئے کویت نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ قطر کے وزیرخارجہ نے یہ بات بتائی۔ خلیج فارس میں اس واقعہ کو سب سے بڑا سفارتی بحران تصور کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں 1991ء میں  امریکی قیادت میں عراق کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی تھی اس وقت بھی کم و بیش ایسے ہی حالات تھے۔ یاد ر ہیکہ صرف ایران کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے قطر کو اس وقت عالمی برادری (خصوصی طور پر عرب برادری) یکا و تنہا کرنا چاہتی ہے۔ قطر میں اس وقت ایک بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی ہے جہاں دس ہزار امریکی فوجی بھی موجود ہیں۔ سٹیلائیٹ نیوز نیٹ ورک الجزیرہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے بتایا کہ امیر کویت نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن محمد الثانی کو فون پر ہدایت کی تھی کہ فی الحال وہ اس بحران سے متعلق کوئی تقریر کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ امیرکویت نے کہا تھاکہ فی الحال اس بحران پر لب کشائی نہ کی جائے کیونکہ ہم اسے ختم کرنے کی پوری کوشش کا آغاز کرچکے ہیں۔

اس کے باوجود وزیرخارجہ نے اپنا لہجہ شکایتی بناتے ہوئے کہاکہ قطر نے صرف ان ممالک کو مسترد کیا ہے جنہوں نے قطر پر اپنی حکمرانی مسلط کرنے اور قطر کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی جرأت کی۔ جنگ زدہ یمن جس کے متعدد علاقے بشمول دارالخلافہ جنگ میں اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اس نے بھی قطر کے ساتھ اپنے تعلقات توڑ لئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مالدیپ جیسے جزیری ملک نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لئے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہیکہ یہ حالات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے صرف دو ہفتوں بعد سامنے آئے ہیں، جہاں انہوں نے سعودی عرب اور مصر سے خواہش کی تھی کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مزید مؤثر اقدامات کرتے ہوئے ایران پر لگام کسنے میں کسی تردد سے کام نہ لیں۔ دوسری طرف امریکی وزیرخارجہ ریکسن ٹلرسن نے بھی تمام عرب ممالک سے خواہش کی ہیکہ وہ اس بحران کی یکسوئی باہمی بات چیت کے ذریعہ کریں جبکہ فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا نے بھی تازہ ترین صورتحال کے بعد قطر سے مسلسل رابطہ بنائے رکھا ہے جو 2022ء میں فیفا ورلڈ کپ منعقد کرے گا۔ سعودی کو قطر سے یہ شکایت ہیکہ وہ القاعدہ، دولت اسلامیہ اور ایسے انتہاء پسندوں کی پشت پناہی کررہا ہے جنہیں ایران کی تائید حاصل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ رمضان المبارک کے مہینہ میں اسلامی ممالک بحران کا شکار ہیں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہیکہ اسلامی ممالک میں اب رمضان المبارک کا وہ تقدس نہیں رہا جیسا کہ ہونا چاہئے۔ جنگ و جدال اور قتل و غارتگری کا سلسلہ رمضان میں بھی جوں کا توں جاری ہے اور روزانہ سینکڑوں لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔ قطر کے موجودہ حالات سے ایوی ایشن صنعت بھی متاثر ہوگی اور فضائی کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT