Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / سقوط حیدرآباد پر جشن منانے کی کوشش قابل مذمت

سقوط حیدرآباد پر جشن منانے کی کوشش قابل مذمت

حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) ریاست حیدرآباد میں جہاں شہری علاقوں پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی وہیں پر دیہی علاقوں میں حکمرانی کرنے والے پٹ واری ‘ جاگیردار‘ منصب دار‘ پٹیل‘ دیشمکھ کا تعلق غیر مسلم طبقے سے تھا ‘ باوجود اسکے سقوط حیدرآباد کی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے حقائق کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنے کاکام کیا جارہا ہے۔ حیدرآبا

حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) ریاست حیدرآباد میں جہاں شہری علاقوں پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی وہیں پر دیہی علاقوں میں حکمرانی کرنے والے پٹ واری ‘ جاگیردار‘ منصب دار‘ پٹیل‘ دیشمکھ کا تعلق غیر مسلم طبقے سے تھا ‘ باوجود اسکے سقوط حیدرآباد کی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے حقائق کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنے کاکام کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد دکن ڈیموکرٹیک الائنس کے زیر اہتمام ’’سقوط حیدرآباد کے دن جشن منانا کیاانصاف ہے ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ وصدرتعمیر ملت مولانا رحیم قریشی ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ صدر وائس آف تلنگانہ کیپٹن لنگا پانڈ و رنگاریڈی ‘کوکنونیر 1969تلنگانہ مومنٹ فاونڈرس فورم ڈاکٹر کولیرو چرنجیوی‘صدر تلنگانہ ہسٹری ڈاکٹر ٹی وویک‘ رام داس‘ وینکٹ راجن‘ سری راملو سابق رکن اسمبلی‘ ثناء اللہ خان ‘ عادل محمد ‘ نعیم اللہ شریف‘ سراج الدین اعجاز‘ساجد خان‘ حیات حسین حبیب‘تلنگانہ ‘ اورنگ آباد‘ پر بھنی کی مذہبی ‘ سماجی وسیاسی شخصیتوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سقوط حیدرآباد پر جشن منانے کی کوششوں کو قابلِ مذمت قراردیا۔جنرل سکریٹری اقبال اکیڈیمی ضیا ء الدین نیر نے گول میز کانفرنس کی کاروائی چلائی۔ اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مولانا رحیم قریشی نے کہاکہ آصف جاہ سابع جمہوریت پر یقین رکھنے والے حکمران تھے جنھوں نے بنار س ہندویونیورسٹی کو دس لاکھ کی گرانٹ پیش کی جبکہ علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کو صرف پانچ لاکھ روپئے ۔ مولانا رحیم قریشی نے مزیدکہاکہ ایک سوال کا جوا ب دیتے ہوئے آصف جاہ سابع نے کہاکہ تھا میری رعایا کی اکثریت ہندو ہے اسی لئے میں نے آبادی کے تناسب سے گرانٹ پیش کی ہے۔

مولانا رحیم قریشی نے کہاکہ سقوطِ حیدرآباد کو پولیس ایکشن ‘ آپریشن پولو ‘ آپریشن کبڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سقوط حیدرآبادکے موقع پر پیش آئے واقعات پر مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی پنڈت سندرلال کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے اور آصف جاہی حکمرانوں کے متعلق پھیلائے جانے والی بدگمانیوں کے خلاف عوام میںشعور بیداری کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک منصوبوں پر روک لگایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ حقیقی تاریخ کو منظر عام پر لانے سے تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مستحکم بنانے میںمددگار اقدام ثابت ہوگا۔ صدر وائس آف تلنگانہ کیپٹن لنگاپانڈورنگاریڈی نے 17ستمبر کو یوم آزادی کے طور پر منانے والوں سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ اگر سقوط حیدرآباد لیبریشن ڈی تھا تو آخر کیا وجہہ تھی کہ سہتاپوراٹا تلنگانہ کے صرف تین اضلاع کریم نگر‘ ورنگل اور نلگنڈہ تک ہی محدود کیو ں رہا اور آخر کیاوجہہ تھی کہ مرہٹواڑہ اور کرناٹک میں سہتا پوراٹا تحریکات پروان چڑھنے میں ناکام رہی ۔ مسٹر پانڈورنگاریڈی نے کہاکہ آپریشن کبڈی میں شامل اکولہ کے ایک ایس پی جو آج بھی بقید حیات ہیں انہوں نے اپنی کتاب میںاسبات کو واضح طور پر شامل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپریشن کبڈی سلطنت آصفیہ کے خلاف ایک منظم سازش تھی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جس کا مقصد عوام کے اندر آصف جاہی حکمرانوں بالخصوص ساتویںنظام آصف جاہ سابع کے خلاف عوام کے دلوں میںنفرت پیدا کرنا اور ریاست حیدرآباد کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان میںبھی نفرت کی دیوار کھڑا کرنا تھا۔مسٹر پانڈورنگاریڈی نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میںانگریزوں کے ہندوستان کے جانے کے بعد بھی کئی ایسی ریاستیں تھی جہاں پر بادشاہی نظام تھاجس کو ختم کرتے ہوئے وہاں پر جمہوری نظام قائم کیاگیامگر وہاں پر اس قسم کا جشن منایانہیں جاتا۔

انہوں نے انڈین یونین کے خلاف چلائی گئی رضاکار تحریک کے متعلق بھی حقائق پیش کرتے ہوئے کہاکہ اُس وقت چار اقسام کے رضاکار سرگرم تھے جن میں ریاست حیدرآباد کی عوام پر ظلم وزیادتی کرنے والوں پر آندھرائی کمیونسٹ پیش پیش تھے جو دن میں رضاکاروں کا لباس زیب تن کرکے عوام پر ظلم وزیادتی کرتے تھے اور رات کو رضاکاروں کے لباس میں لوٹ مار مچاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ انڈین یونین کی نگرانی میں آندھرائی کمیونسٹوں نے ریاست حیدرآباد کے ہندو اور مسلمانو ںکے درمیان میں نفرت پیدا کرنے کاکام کیاہے۔انہوں نے کہاکہ سہتا پوراٹا اور سقوط حیدرآباد کے دوران پیش آئے واقعات پر کتابیں لکھنے والے کمیونسٹ جن کا تعلق نہ صرف آندھرا سے ہے بلکہ انہوں نے کبھی بھی مکمل تلنگانہ کا دورہ نہیںکیااور اپنی تحریرات کے ذریعہ آصف جاہی حکمرانوں کی غلط شبیہہ کو عوام کے سامنے پیش کرنے میںکامیاب ہوگئے۔انہوں نے17ستمبر کو یوم آزادی کے طور پر جشن منانے والوں کو مذہبی منافرت پھیلنے والے قراردیااور کہاکہ آصف جاہی حکمرانوں کے متعلق بغض رکھنے والی سیاسی جماعتیں اور قائدین اگر17ستمبر کے متعلق سنجیدہ ہیںاور ایک مذہب سے بالاتر ہو کر مذکورہ دن جشن منارہے ہیںتو وہ مولوی علائو الدین‘ حسن نصرانی کی حب الوطنی کو کس طرح فراموش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے ایسی سیاسی جماعتوں اور قائدین جو 17ستمبر کو جشن مناتے ہیںسے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی عظیم سکیولر شخصیتیں مولوی علائو الدین اور حسن نصرانی کے یومِ پیدائش اور یوم وفات بھی منانے کا اعلان کریں جنھوں نے انقلاب زندہ باد کے نعروں کو ایجاد کرتے ہوئے ہندوستانی عوام کی رگوں میں خون کے بجائے جذبہ انقلاب کو دوڑانے کاکام کیا ہے۔ڈاکٹر کولیرو چرنجیوی نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حقائق کو چھپانے کے لئے تاریخی واقعات کو غلط انداز میںپیش کیاجارہا ہے انہوں نے پولیس ایکشن کے نام پر تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کے قتل عام کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پولیس ایکشن کے واقعات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے پنڈت سندرلال کمیٹی قائم کی تھی جس کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

انہوں نے مزیدکہاکہ سقوط حیدرآباد ریاست حیدرآباد کی تاریخ کاسیاہ باب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 11ستمبر کو قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہوا جس کے فوری بعد یعنی12ستمبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ریاست حیدرآباد پر کوچ کا انڈین آرمی کو حکم دیا۔جس کے بعد ریاست حیدرآباد کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بعدازاں سلطنت آصفیہ کے زوال پذیر ہونے کے بعد مختلف طریقوں اور سازشوں کے تحت ریاست حیدرآباد کے امن ‘ آپسی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کاکام کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست حیدرآباد کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی تمام کوششوں کا مقابلہ کرنے کیلئے آصف جاہی حکمرانوںکی حقیقی تاریخ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص آصف جاہ سابع کے سکیولر کارناموں ‘ سماجی اور معاشی اصلاحات کو تلنگانہ کے تعلیمی نصاب میںشامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے گول میز کانفرنس کے حوالے سے آصف جاہ سابع کی یومِ پیدائش یا پھر وفات پر تلنگانہ میںعام تعطیل کا اعلان کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیااور مرکزی حکومت سے پنڈ ت سندرلال کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لاتے ہوئے اس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میںموضوع بحث بنانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ حقائق عوام کے سامنے پیش کئے جاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT