Tuesday , December 19 2017
Home / دنیا / سلامتی کونسل میں ارکان کا روہنگیا بحران پر تفصیلی بحث کا مطالبہ

سلامتی کونسل میں ارکان کا روہنگیا بحران پر تفصیلی بحث کا مطالبہ

اقوام متحدہ۔23 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے نصف ارکان نے جمعہ کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرش سے میانمار میں روہنگیا آبادی پر وحشیانہ تشدد پر اگلے ہفتے 15 رکنی کونسل کو تفصیلی اطلاع دینے کا مطالبہ کیا، جس کو انہوں نے نسل کشی قرار دیا ہے ۔ سویڈن، امریکہ، برطانیہ ، فرانس، مصر، سینیگال اور قزاقستان نے ایتھوپیا سے اگلے ہفتے کونسل میں روہنگیا آبادی کے خلاف تشدد پر تفصیلی بحث کا انتظام کرنے کو کہا ہے ۔ میانمار میں گزشتہ ماہ 25 اگست کو روہنگیا باغیوں کے حملے کے بعد فوجی کارروائی میں وسیع پیمانے پر وحشیانہ تشدد سے 4لاکھ 22 ہزار سے بھی زیادہ روہنگیا افراد ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سلامتی کونسل سے روہنگیا بحران کو ختم کرنے کے لئے فوری طورپر ٹھوس کارروائی کرنے کو کہا تھا۔حالیہ روہنگیا بحران شروع ہونے کے بعد سلامتی کونسل نے دو مرتبہ بند کمرے میں میٹنگ کی ہے اور گزشتہ ہفتہ ایک غیر رسمی بیان جاری کرکے میانمار کی صورتحال کی مذمت کی ہے اور حکام سے فوری طورپر تشدد بند کرنے کو کہا ہے ۔ سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہیں ہو ئی تو سلامتی کونسل رسمی بیان جاری کرنے پر غور کر سکتی ہے ۔ تاہم، میانمار کے خلاف ٹھوس کارروائی سے چین اور روس عدم اتفاق کرسکتے ہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کے لئے اقوام متحدہ کی قرار داد کی منظوری لازمی ہے ، جس کو وہ ویٹو کرسکتے ہیں۔ میانمار نے اس مہینے کے آغاز میں ہی کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی طرف سے کسی بھی کارروائی سے ملک کو بچانے کیلئے ویٹو پاور یافتہ ممالک چین اور روس کے ساتھ بات چیت کررہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT