Saturday , August 18 2018
Home / دنیا / سلامتی کونسل میں بیت المقدس پر مسودہ قرارداد کو امریکہ کاویٹو

سلامتی کونسل میں بیت المقدس پر مسودہ قرارداد کو امریکہ کاویٹو

امریکہ کے قریبی حلیف برطانیہ، فرانس اور جاپان بھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے ٹرمپ کے فیصلے کے مخالف

واشنگٹن 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے جس میں اس کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چھ سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس عالمی ادارہ میں ویٹو کا استعمال کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 6 ڈسمبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں شدید مذمت اور زبردست احتجاج کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی انتہائی طاقتور 15 رکنی سلامتی کونسل میں شامل امریکہ کے قریب ترین حلیف ممالک نے بھی اس قرارداد کی تائید کی ہے جس کے خلاف واشنگٹن نے ویٹو کیا ہے۔ امریکہ کے حلیف ملکوں نے خبردار کیا ہے کہ یروشلم سے متعلق ٹرمپ کا یہ اعلان جو کئی دہائیوں قدیم امریکی پالیسی کی منطقی تکمیل بھی تھا، دنیا کے ایک انتہائی حساس تنازعہ کو حل کرنے کی کوششوں میں سنگین خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیا جانے والا یہ پہلا ویٹو ہے۔ مزید برآں یہ امریکہ کی طرف سے گزشتہ چھ سال کے دوران کیا جانے والا بھی پہلا ہی ویٹو ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی ویٹو کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ ’’درحقیقت امریکی اقتدار اعلیٰ کی دفاع اور مشرق وسطیٰ کی امن مساعی میں امریکی رول کی مدافعت کے لئے یہ ویٹو کیا گیا ہے جو ہمارے لئے کسی اُلجھن یا پریشانی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اس سے ماباقی سلامتی کونسل کو یہ فکر و پریشانی ہونی چاہئے‘‘۔ نکی ہیلی نے مزید کہاکہ ’’سلامتی کونسل میں آج ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ ایک توہین ہے۔ یہ دراصل اسرائیل ۔ فلسطین تنازعہ کی یکسوئی کے ضمن میں اقوام متحدہ کی طرف سے کسی فائدہ سے کہیں زیادہ نقصان پہونچانے کی ایک اور مثال ہے‘‘۔ نکی ہیلی اس قرارداد کے مسودہ پر خطاب کررہی تھیں جس کے ذریعہ تمام ملکوں کو یروشلم میں سفارت خانوں کے قیام سے باز رہنے کی اپیل کی جارہی تھی۔ ہند نژاد امریکی سفیر نے اقوام متحدہ میں مزید کہاکہ ’’کسی بھی ملک کی طرف سے امریکہ کو یہ مشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اپنا سفارت خانہ کہاں قائم کریں … محض کس مقام پر ہمارے سفارت خانہ کے قیام کے فیصلے کے معمولی اور سیدھے سادے عمل پر امریکہ کو آج اپنے اقتدار اعلیٰ کی دفاع کرنا پڑرہا ہے‘‘۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کیلئے ٹرمپ سے کئے گئے مطالبہ پر مبنی اس قرارداد کی برطانیہ، فرانس اور جاپان جیسے امریکہ کے قریب ترین حلیف ملکوں نے پرزور تائید کی۔ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر متھیو رائیکرافٹ نے کہاکہ ’’یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ کو وہاں منتقل کرنے کے لئے اس مسئلہ کی قطعی یکسوئی سے قبل کئے جانے والے امریکہ کے یکطرفہ فیصلہ سے ہم اتفاق نہیں کرتے‘‘۔ رائیکرافٹ نے مزید کہاکہ ’’اس علاقہ (مشرق وسطیٰ) میں پیش آئے حالیہ چند واقعات نے بتادیا ہے کہ اس قسم کے فیصلے اس علاقہ میں امن کے موقعوں اور امکانات کے لئے غیر فائدہ بخش ہیں اور ایک مقصد ہے جس پر سلامتی کونسل میں ہم سب بدستور اپنے عزم و عہد کیلئے پابند رہیں گے۔ اسرائیل کے لئے برطانیہ کا سفارت خانہ تل ابیب میں واقع ہے اور اس کی (یروشلم) منتقلی کے لئے ہمارا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘‘۔ برطانوی سفیر نے کہاکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کے ذریعہ یروشلم کے موقف کا تعین کیا جانا چاہئے اور یقینا یہ اسرائیل اور فلسطین کا مشترکہ دارالحکومت ہونا چاہئے‘‘۔ رائیکرافٹ نے کہاکہ یروشلم ہی اس علاقہ میں امن کی کلید ہے۔ اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل مندوب فرینکوئی دیلاترے نے امریکہ کی بین الاقوامی برادری کی متفقہ رائے پر واپسی کی توقع ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیاکہ (ٹرمپ کے فیصلے سے) سیاسی تصادم کے کسی مذہبی تصادم میں تبدیلی کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جس سے صرف انتہا پسندوں کو ہی فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT