Wednesday , December 12 2018

سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اٹھایا

اقوام متحدہ ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اپنا وہی پرانا کشمیر کا راگ الاپا اور یہ تک کہہ دیا کہ اس وقت فلسطین اور مسئلہ کشمیر بالکل یکساں نوعیت کے ہیں جبکہ دنیا محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اس پیچیدہ صورتحال کی یکسوئی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ایک کھلے مباحثہ میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی نے شرکت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت صورتحال اتنی دھماکو ہے کہ بین الاقوامی امن اور سیکوریٹی کو خطرات لاحق ہیں اور ان خطروں میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ آج حالت یہ ہیکہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے اور وہ اپنے قابضین کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار ہورہے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ’’امن اور سیکوریٹی کو لاحق پیچیدہ چیلنجس کی یکسوئی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ سے ملیحہ لودھی نے خطاب کیا اور کہا کہ آج افریقہ سے افغانستان تک ہر طرف جنگ و جدال کا ماحول ہے۔ خانہ جنگیوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے جس کی بدترین مثالیں شام، لیبیا اور یمن ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے دھماکو حالات کو امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلہ نے مزید پیچیدہ کردیا ہے جہاں موصوف نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا ہے جس سے دنیا بھرمیں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں لیکن ٹرمپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ دوسری طرف شمالی کوریا اور امریکہ بھی ایک دوسرے کو آنکھیں دکھارہے ہیں اور سکریٹری جنرل اقوام متحدہ انٹونیوگوٹیرس نے اس سلسلہ میں کئی بار انتباہی بیان بھی جاری کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT