Saturday , November 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / سلام کو رواج دیں

سلام کو رواج دیں

سید شجاعت حسین

سلام کے معنی امن، سلامتی، رحمت اور برکت کے ہیں۔ یہ وہ عظیم الشان دعا اور تحفہ ہے، جس کا نام اللہ تعالی نے ’’السلام‘‘ رکھا ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’فقل سلام علیکم‘‘ (تم پر سلام ہو) چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں، جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہا کرو ’’تم پر سلام ہو‘‘۔
سلام خیر خواہی کا ایسا جذبہ ہے، جس کا اظہار ایک مسلمان کو لازماً کرنا پڑتا ہے۔ سلام ایک بہترین دعا ہے، جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے ملتے ہوئے دیتا ہے۔ سلام ایک تحفہ ہے۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں اس قول خیر کو پھیلانے کا حکم دیا ہے، تاکہ معاشرہ کی فضاء سلامتی کی دعاؤں سے بھر جائے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرنی چاہئے۔ سلام کرنے میں پہل کرنے والے شخص کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔
ایک شخص نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر السلام علیکم عرض کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’دس نیکیاں‘‘۔ پھر دوسرا آیا اور کہا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’بیس نیکیاں‘‘۔ پھر تیسرا شخص آیا اور عرض کیا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ‘‘۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’تیس نیکیاں‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھنے والے کو اور تھوڑے زیادہ کو‘‘۔ پس سلام ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لئے امن کا پیغام ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو یہ درس دے کہ وہ سلام کرنے کی عادت ڈالیں۔ جب گھر میں داخل ہوں تو سلام کرکے داخل ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں تاکید فرمائی ہے کہ ’’جب بھی کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر درخت یا دیوار یا پتھر درمیان میں حائل ہو جائیں یعنی ایک دوسرے سے اوجھل ہو جائیں اور پھر دوبارہ آپس میں ملیں تو پھر دوبارہ ایک دوسرے کو سلام کریں‘‘۔ یہ بات بھی ضروری ہے کہ سلام بلند آواز سے کرنا چاہئے، اس میں بخل نہیں کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT