Tuesday , December 11 2018

سلسلہ نقشبندیہ، مجدد الف ثانی کے ارشادات کی روشنی میں

تمام سلاسل میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ وہ واحد سلسلہ ہے، جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاری و ساری ہے۔ قیوم زمانی، محبوب سبحانی، مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہ العزیز مکتوبات شریف دفتر اول، حصہ چہارم، صفحہ ۲۲ پر رقمطراز ہیں: ’’اے برادر!

تمام سلاسل میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ وہ واحد سلسلہ ہے، جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاری و ساری ہے۔ قیوم زمانی، محبوب سبحانی، مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہ العزیز مکتوبات شریف دفتر اول، حصہ چہارم، صفحہ ۲۲ پر رقمطراز ہیں: ’’اے برادر! اس بلند طریق کے سرحلقہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، جو انبیاء علیہم السلام کے بعد تحقیقی طورپر تمام بنی آدم سے افضل ہیں۔ اس اعتبار سے اس طریق کے بزرگ واروں کی عبارتوں میں آیا ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بڑھ کر ہے، کیونکہ ان کی نسبت جس سے مراد خاص حضور و آگہی ہے بعینہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت اور حضور ہے، جو تمام آگاہیوں سے بڑھ کر ہے اور اس طریق میں نہایت اس کے ابتدا میں درج ہے‘‘۔

علامہ بدر الدین سرہندی رحمۃ اللہ علیہ مشائخ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مبارک تذکرہ پر مشتمل جامع و مستند دستاویز ’’حضرات القدس:: میں حدیث شریف وارد ہے: ’’اگر میں کسی کو اپنا خلیل (خالص دوست) بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہیں: ’’آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد کہ اگر کوئی شخص اس مقام خاص میں میرا شریک ہوتا تو ابوبکر ہوتے، اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ علم باطن میں علم باللہ کی وجہ سے اولیائے امت میں اکمل و افضل اور سب سے زیادہ عالم ہیں، بلکہ پیغمبروں کے بعد تمام صدیقوں سے زیادہ کامل اور صدیق اکبر ہیں۔ اکابر اہل بصیرت قدس اللہ تعالی ارواحہم کا اس بات پر اتفاق ہے‘‘۔
حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے جو چیز میرے سینے میں ودیعت کی، میں نے اس کو ابوبکر کے سینے میں ڈال دیا‘‘۔ قرۃ العینین کے حوالے سے منقول ہے کہ ایک روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے ابوبکر! اللہ تعالی نے تمھیں ’’رضوان اکبر‘‘ عطا فرمایا‘‘۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! رضوان اکبر کیا ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’مؤمن کے لئے اللہ سبحانہ و تعالی کی عمومی تجلی ہوگی اور تمہارے لئے خصوصی طورپر تجلی فرمائے گا‘‘۔

قیوم زمانی، محبوب سبحانی، مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات سلسلہ نقشبند کی خصوصیت میں حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ ہمارا طریقہ سب طریقوں سے اقرب ہے اور فرمایا: حق تعالی سے میں نے ایسا طریق طلب کیا ہے، جو بے شکر موصل ہے اور آپ کی یہ التجا مقبول ہوئی۔ اس راہ میں ابتدائً حلاوت و وجدان ہے اور انتہا میں بے مزگی اور فقدان ہے۔ دیگر طرقہائے سلاسل میں ابتدا میں بے مزگی اور فقدان ہے، انتہا میں حلاوت و وجدان۔ اسی طرح اس طریق کی ابتدا میں قرب و شہود ہے اور انتہا میں بعد و حرمان۔

اس طریق علیہ کے بزرگوں نے احوال و مواجیہ کو احکام شرعیہ کے تابع کیا ہے اور اذواق معارف کو علوم دینیہ کا خادم بنایا ہے۔ کلمات شکریہ پر مغرور و مفتون نہیں ہوتے، وہ احوال جو شرعی ممنوعات اور سنت سنیہ کے خلاف اختیار کرنے سے حاصل ہوں قبول نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے سماع و رقص کو پسند نہیں کرتے، ذکر خفی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کا حال دائمی، ان کا وقت استمراری ہے، وہ حضور جس کے پیچھے غیبت ہو ان بزرگوں کے نزدیک بے اعتبار ہے۔

اس طریق میں پیری و مریدی طریقہ کے تعلم و تعلیم پر موقوف ہے۔ نہ صرف کلاہ و شجرہ پر سلاسل میں اگرچہ کلاہ و شجرہ کی اہمیت ہے لیکن اس پر انحصار نہیں ، اصل مقصود تعلیم و تعلم ہے ۔
اس طریق میں ریاضتیں اور مجاہدے نفس امارہ کے ساتھ احکام شرعی کے بجالانے اور سنت سنیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کی متابعت کو لازم تھامنے سے ہے، کیونکہ پیغمبران کرام کی بعثت اور کتب سماویہ کے نزول سے مقصود نفس امراہ کی خواہشات کو دور کرنا ہے، جو مولائے جل شانہ کی دشمنی میں قائم ہے۔

پس نفسانی خواہشوں کا دور ہونا احکام شریعت کے بجالانے پر وابستہ ہے۔ جس قدر شریعت میں راسخ اور ثابت قدم ہوگا، اسی قدر خواہش نفس سے دور تر ہوگا، کیونکہ نفس پر شریعت کے اوامر و نواہی کے بجالانے سے زیادہ کوئی چیز دشوار نہیں۔ صاحب شریعت کی پیروی کے سوا کسی چیز میں اس کی خرابی متصور نہیں، وہ ریاضتیں اور مجاہدے جو سنت کی تقلید کے سوا اختیار کی جائیں وہ معتبر نہیں، کیونکہ جوگی ہندو، برہمن اور یونان کے فلسفی اس امر میں شریک ہیں اور وہ ریاضتیں ان کے حق میں گمراہی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتیں اور سوائے خسارہ کے کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔
اس طریق میں طالب کا سلوک شیخ مقتدا کی تقلید پر منحصر ہے۔ اس کے تصرف کے بغیر کچھ کام نہیں ہوسکتا، کیونکہ ابتدا میں نہایت کا درج ہونا اس کی شریف توجہ کا اثر ہے اور بے چونی و بے چگونی کا حاصل ہونا اس کے کمال تصرف کا نتیجہ ہے۔ بے خودی کی وہ کیفیت جس کے لئے انھوں نے مختص راستہ اختیار کیا ہے، اس کا حاصل ہونا مبتدی کے اختیار میں نہیں ہے اور وہ توجہ جو شش جہت سے معرا ہے، اس کا وجود طالب کے حوصلہ سے باہر ہے۔

نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند
کہ برندازہ رہ پنہاں مجرم قافلہ را
یہ بزرگوار جس طرح نسبت کے عطا کرنے پر کامل طاقت رکھتے ہیں اور تھوڑے وقت میں طالب صادق کو حضور و آگاہی بخش دیتے ہیں، اسی طرح نسبت کے سلب کرنے میں بھی پوری طاقت رکھتے ہیں اور ایک ہی بے التفاتی سے صاحب نسب کو مفلس کردیتے ہیں۔
اس طریق میں زیادہ تر افادہ اور استفادہ خاموشی میں ہے۔ ان بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جس کو ہماری خاموشی سے نفع نہ ہوا، وہ ہمارے کلام سے کیا نفع حاصل کرے گا۔ اس خاموشی کو انھوں نے تکلف کے ساتھ اختیار نہیں کیا ہے، بلکہ ان کے طریق کے لوازم و ضروریات سے ہے۔
اس طریق کا مدار دو اصولوں پر ہے (۱) شریعت پر اس حد تک استقامت اختیار کرنا کہ چھوٹے چھوٹے آداب کے ترک کرنے پر بھی راضی نہ ہوں (۲) شیخ طریقت کی محبت اور اخلاص پر راسخ اور ثابت قدم ہوں۔ اس طریق میں افادہ اور استفادہ انعکاس ہے۔ مرید محبت کے رابطہ سے جو وہ اپنے شیخ مقتدا کے ساتھ رکھتا ہے، دم بہ دم اس کا رنگ پکڑ جاتا ہے اور انعکاس کے طریق پر اس کے نور سے منور ہوجاتا ہے۔
از طفیلِ خواجگانِ نقشبند
کارِ دنیا عاقبت محمود باد

TOPPOPULARRECENT