Saturday , November 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / سلطان القلم حضرت بندہ نواز گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ

سلطان القلم حضرت بندہ نواز گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ

 

از: ڈاکٹر محمد عبدالحمید اکبر، گلبرگہ شریف
حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ کا اسم گرامی سید محمد اور کنیت ابوالفتح تھی ان کا لقب صدر الدین الولی الاکبر اور الصادق تھا۔ حضرت پیر نصیر الدین چراغ دہلی کی بارگاہ سے گیسودراز کا لقب عطا ہوا تھا۔
حضرت سیدنا خواجہ بندہ نواز کی ۴؍رجب ۷۲۱ھ؁ مطابق ۳؍ستمبر ۱۳۲۱ء؁ دہلی میں ولادت ہوئی۔ آپ کے جد اعلیٰ ابوالحسن جندی، علاؤالدین مسعود شاہ کے عہد حکومت میں دہلی چلے آئے تھے۔ اور یہیں مستقل سکونت اختیار کی تھی۔ تاریخ حبیبی کے مطابق آپ کے آباء و اجداد خراسان سے ہندوستان آئے تھے۔ محمد علی سامانی کا بیان ہے کہ حضرت کا سلسلہ نسب بائیس واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
محمد تغلق کے حکم پر علماء، عمائدین اور مشائخین نے دہلی سے دولت آباد کا رخ کیا تو حضرت خواجہ بندہ نوازؒ بھی اپنے والد گرامی حضرت سید یوسف حسینی راجو قتال علیہ الرحمہ کے ساتھ دولت آباد پہنچے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم خلد آباد میں ہوئی، عبدالمجید صدیقی کے بقول شیخ بابو نامی ایک بزرگ نے انہیں اپنے مکتب میں پڑھایا اور حدیث و فقہ کے ابتدائی درس دئے تھے۔ اس کے بعد اپنے والد گرامی شاہ راجو قتال سے بھی علوم ظاہری و باطنی کا فیض حاصل کیا۔ کم عمری ہی سے آپ پابند صوم و صلوٰۃ تھے۔ ۷(سات) سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرمایا تھا۔ سولہ سال کی عمر تک حضرت بندہ نواز علیہ الرحمہ نے علوم و فنون کی بے شمار منزلیں طے کرلئے تھے۔ اپنے بھائی سید حسین چندن کے ساتھ دہلی میں ۱۶؍رجب ۷۳۶؁ھ کو آپ نے حضرت چراغ دہلی سے شرف بیعت حاصل کیا۔ اس کے بعد مجاہدۂ ریاضت، ذکر مراقبہ اور دوسرے مشاغل میں مصروف رہے۔ پیر و مرشد کی توجہ اور عنایت خاص کی وجہ سے سلوک کی منزلیں طے کرلیں۔ گھر کی سکونت ترک کرکے خطیرہ شیرخاں میں قیام کیا۔ بروز چہارشنبہ ۷۵۷؁ھ کو شیخ طریقت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا۔ ۱۷؍رمضان ۷۵۷؁ھ کو حضرت چراغ دہلی نے سفر آخرت اختیار فرمایا اور تیسرے دن حضرت سید محمد حسینی گیسودراز خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ نصیرالدین چراغ دہلی کے سجادۂ ولایت پر رونق افروز ہوئے اس طرح بندگان خدا کی رہبری میں دہلی میں (۴۴) چوالیس برس صرف کئے۔ ڈھائی تین سال سفر میں اور بقیہ بائیس سال گلبرگہ میں خدمت خلق میں صرف کئے۔ اس طرح خلافت کے بعد سے سفر آخرت تک آپ جملہ تقریباً ستر (۷۰) سال تک بندگان خدا کی رہبری کرتے رہے۔
چالیس سال کی عمر میں حضرت بندہ نواز علیہ الرحمہ نے بی بی رضا خاتون سے شادی فرمائی۔ جن سے دو(۲) صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہوئیں۔ بڑے فرزند سید محمد اکبر حسینی ایک برگزیدہ صوفی اور عالم ربانی تھے۔ دوسرے صاحبزادے سید یوسف عرف سید محمد اصغر حسینی بھی زیور علم و عرفان سے آراستہ تھے۔۸۰۱؁ھ میں تیمور لنگ نے دہلی پر حملہ کیا تو حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ نے اپنے افراد خاندان اور دیگر متوسلین کے ساتھ ۷؍ربیع الاول ۸۰۱؁ھ مطابق ۲۷؍نومبر ۱۳۹۸؁ء کو دہلی سے رخت سفر باندھا۔ ’’سیر محمدی‘‘ کے مصنف محمد علی سامانی بھی حضرت کے ہم رکاب تھے۔ بہادر پور میں نو دن قیام کے بعد، گوالیر، بھاندیر، ایرچہ، چھترہ، چندیری اور بڑودہ سے ہوتے ہوئے کھمبائیت پہنچے اور یہاں قیام کیا اور سلوک و تصوف کی ترویج میں مصروف ہوگئے۔ تقریباً ۸۰۴ھ؁ میں آپ گلبرگہ تشریف لائے اور جامع مسجد کے قریب اپنے مریدوں کے ساتھ فروکش ہوئے۔ اس زمانے میں بہمنی سلطنت کا آٹھواں حکمراں فیروز شاہ بہمنی سر براہ سلطنت تھا، جب اس کو حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ کی خبر ہوئی تو اس نے ملاقات کرکے درخواست کی کہ حضرت گلبرگہ ہی میں قیام فرمائیں تاکہ یہاں کے باشندے فیوض و برکات سے مستفید ہوسکیں۔ فیروز شاہ بہمنی بھی آپ کی عظمت و بزرگی سے حد درجہ متاثر ہوا اور آپ کے حلقۂ عقیدت مندان میں شامل ہوگیا اور بعد میں تخت نشینی کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا۔
حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ اہل سنت و جماعت کے مسلک حقہ کے نہایت پابند بزرگ تھے۔ ’’تاریخ حبیبی‘‘ کے مطابق آپ فرماتے تھے کہ فقیہ صوفی و سید سنی کم ہیں، مجھ میں یہ چاروں صفات موجود ہیں یعنی میں فقیہ بھی ہوں اور صوفی بھی، سید بھی ہوں اور سنی بھی اور یہ بھی کہہ دیا کرتا تھے کہ میرا عقیدہ وہی ہے جو اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ ’’جوامع الکلم‘‘ میں بھی آپ کا قول ظاہر کیا گیا ہے کہ خلفائے راشدین کے فضائل میں جس طرح خلافت کی ترتیب ہے اسی ترتیب سے ان کی فضیلت کا قائل ہوں۔ الغرض حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ نے ایک سو چار سال چار ماہ بارہ یوم کی عمر پائی اور ۱۶؍ذیقعدہ ۸۲۵؁ھ مطابق ۱۴۲۲؁ء کو وہ بروز چہارشنبہ نماز اشراق و چاشت کے درمیان واصل بحق ہوئے۔ جنہوں نے اپنی تمام زندگی حنفی المسلک اہل سنت و جماعت کے اصولوں کے مطابق گزاری۔
محمد علی سامانی نے ’’مخدوم دین و دنیا‘‘ سے گیسو دراز کی تاریخ اخذ کی ہے۔ چشتیہ سلسلہ کے بزرگوں میں خواجہ بندہ نواز کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ ایک کثیر التصانیف بزرگ تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ’’سلطان القلم‘‘کا لقب عطا کیا گیا تھا۔ غالباً چراغ دہلوی علیہ الرحمہ کو ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کا اندازہ ہوگیا تھا اس لئے انہوں نے خواجہ بندہ نواز کو تصنیف و تالیف کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’مرابہ تو کاراست‘‘ یعنی مجھے تم سے کام لینا ہے۔ گلبرگہ شریف میں ہر سال ذیقعدہ کی ۱۵ کو آپ کا عرس نہایت شاندار پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ علمی مذاکرے میں دانشوران علم و ادب اپنے مقالوں سے نوازتے ہیں۔ ملک بھر سے زائرین کثیر تعداد میں شریک رہتے ہیں۔ حضرت بندہ نواز علیہ الرحمہ کے موجودہ سجادہ نشین قابل قدر کارنامے انجام دے رہے ہیں، اللہ ان کی عمر دراز کرے آمین ۔
مرسل: قاضی ابوذکوان

 

TOPPOPULARRECENT