Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے عرس پر صدرجمہوریہ ہند اور وزیر اعظم نے مبارکباد دی

سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے عرس پر صدرجمہوریہ ہند اور وزیر اعظم نے مبارکباد دی

محبو ب الہی نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیاکو امن وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیا۔
لیفٹنینٹ گورنر انل بیجل کا اظہار خیال‘ درگاہ میں آج صبے بڑے قل کی رسم ادا کی گئی ‘جگہ جگہ محفل سماع کا انعقاد ‘ ہزاروں کی تعداد میں زائرین کی شرکت
نئی دہلی۔ حضرت سلطان المشائخ خواجہ محمد نظام الدین اولیاعلیہ الرحمہ کے سالانہ 714ویں عرس کے موقع پر آج صبح درگاہ کے صحن میں بڑے قل کی رسم ادا کی گئی ‘ جس میں ہزار وں کی تعداد میں لوگو ں نے شرکت کی نیز ملک وعالم اسلام کے لئے خصوصی دعاء کرائی گئی ۔ دعا کے بعد لنگر کا اہتمام کیاگیا اور محفل سماع کا انعقاد ہوا۔

عرس محل میں عرس تقاریب کمیٹی کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا‘ جس میں دہلی کے لفٹنینٹ انل بیجل نے بطور خاص شرکت کی ‘ ان کے علاوہ جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد‘ صدر جمہوریہ ہند کے ڈپٹی پریس سکریٹری نتیش رستوگی‘ سینٹ کولمبس اسکول کے پرنسپل کونسلر یاسمین قدوائی‘ رتیش نند اور معرف شاعر گلزار دہلوی ‘ افضل منگلوری‘ ایڈوکیٹ سید فرید نظامی ودیگر نے شرکت کی اس دوران صدرجمہوریہ ہند اور وزیراعظم نے اپنے اپنے پیغامات بھیج کر عرس کے منتظمین کو مبارک باد دی۔

تقریب کا آغاز کرتے ہوئے سید معراج نظامی نے ایل جی انل بیجل کا خیر مقدم کرتے ہوئے بتاا کہ اس عرس محیل میں ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو سمیت تقریبا‘ تمام وزرائے اعظم اور ڈاکٹر راجندر پرساد کے بعدکئی صدور جمہوریہ نے شرکت کر نذر انہ عقیدت پیش کیا۔ نیز دہلی کے تمام لفٹنینٹ گورنر ہمیشہ یہاں حاضری دیتے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس عالمی شہرت یافتہ درگاہ میں تمام مذاہب کے لوگ حاضری دیتے ہیں۔خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے تعلق سے انہوں نے کہاکہ آپ اس ی ملک میں تقریبا800سال قبل پیدا ہوئے اور آج کا وصال 765ہجری میں ہوا ۔

آپ کے پیر ومرشد حضرت خواجہ بابا فریدالدین گنج شکر علیہ الرحمہ نے خواجہ نظام الدین اولیا علیہ الرحمہ کو اپنا خلیفہ بنایا نیز دعائیں دے کر دہلی کی جانب جانے کا حکم دیا۔ ان کے پیرومرشد کا مقصد یہی تھی کہ خواجہ محبو ب الہی علیہ الرحمہ یہاں آکر غریب‘ پریشان حال لوگوں کی مدد کریں۔تب سے لیکر آج تک سبھی مذاہب لے لوگوں یہاں اپنے دکھ درد وپریشانیاں لے کر آتے ہیں اور مرادیں پاکر خوش حال جاتے ہیں۔اس موقع پر درگاہ کے سجاد نشین خواجہ احمد نظامی سید بخاری نے ایل جی انل بیجل‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد‘جمہوریہ ہند کے ڈپٹی پریس سکریٹری نمیش رستوگی‘ سنٹ کولمبس اسکول کے پرنسپل کونسلر یاسمین قدوائی ‘ رتیش نند اور معروف شاعر گلزار دہلوی کی دستاربندی کی گئی اور انہیں درگاہ کے تبرک پیش کیاگیا ۔

معراج نظامی نے صدر جمہوریہ ہند کا پیغام پڑھ کر سنایاجس میں لکھاتھا کہ میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے عرس کی مبار ک دیتا ہوں او رمجھے بے حد خوشی ہے کہ عرس منعقد کیاجارہا ہے ۔میں عرس کمیٹی اور تمام ذائرین کو مبارک باد دیتے ہوئے نیک خواہشات کااظہار کرتا ہوں۔

اسی طرح وزیراعظم نریند رمودی نے اپنے پیغام میں عرس مبارک بادیتے ہوئے کہاکہ یہ خوشی کی بات ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کا 714واں عرس منایاجارہا ہے۔آپ ایک عظیم صوفی بزرگ تھے ‘ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتاہوں۔اپنے خطاب میں انل بیجل نے لوگوں کو عرس کی مبارک بادپیش کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہے کہ خواجہ صاحب 714واں عرس منایاجارہا ہے ۔ آپ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیابھر میں امن وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو عام کیاہے اور اس کا پیغام دیا یہی وجہہ ہے کہ آج ہم امن وچین کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

خاص طور سے ہندوستان میں صوفی ازم وگنگا جمنی تہذیب کا آغاز ہوا اور آج کافی حد تک قائم ہے۔جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آپ کے عالمی شہرت یافتہ شاگر د خواجہ امیر خسروتھے او رانہو ں نے بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے لئے اشعار لکھے‘ گیت لکھیاور صوفیانہ کلام لکھا جو آج تک مقبول عام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ لوگوں نے مجھے یہاں بلایا اس کے لئے میں شکر گذارہوں او رنئے سال کی مبارکباد دیتا ہو

TOPPOPULARRECENT