Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز

بی بی خاشعہ

بی بی خاشعہ
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سجستان میں ۵۳۷ھ میں ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام حضرت غیاث الدین تھا۔ بارہ سال کی عمر میں ہی والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ ترکہ میں ایک باغ ملا، جس کی آپ نگرانی کرتے رہے۔ اتفاقاً ایک دن حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نامی ایک مجذوب بزرگ باغ میں داخل ہوئے تو ان کی خدمت میں آپ نے انگور پیش کیا، لیکن انھوں نے انگور نہیں کھایا اور اپنی تھیلی سے کھلی کا ایک ٹکڑا نکال کر منہ میں رکھ لیا اور چبانے کے بعد اُسے منہ سے نکال کر خود اپنے ہاتھوں سے حضرت خواجۂ اجمیری کے منہ میں ڈال دیا۔ کھلی کا ٹکڑا کھانا تھا کہ حضرت غریب نواز کا قلب انوار الہٰی سے روشن ہو گیا اور ایک خاص کیفیت آپ پر طاری ہو گئی۔ دنیا سے آپ کا دل بیزار ہو گیا اور طلب خدا میں سمرقند پہنچے۔ وہاں آپ حفظ قرآن اور علوم ظاہری کی تعلیم میں مصروف رہے۔ بعد ازاں آپ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے آپ کے باطنی اوصاف کو پہلی ہی نظر میں سمجھ لیا اور آپ کو بیعت سے مشرف کیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے اپنے پیر و مرشد کے ساتھ دس سال تک سیاحت کی۔ پیر و مرشد کی آپ پر بے حد نظرکرم تھی، چنانچہ آپ نے حضرت خواجۂ اجمیری کو سلوک کی بلندی تک پہنچا دیا۔ بعد ازاں آپ کو خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا۔
حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سلوک کی منزلیں طے کرکے آپ اپنے وطن تشریف لے گئے۔ ابھی وطن میں تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ قلب مبارک زیارت بیت اللہ اور روضۂ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بیتاب ہو گیا۔ مسلسل سفر کے بعد روضۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوئے۔ ایک روز عبادت میں مصروف تھے کہ روضۂ رسول سے آواز آئی: ’’اے معین الدین! تو ہمارے دین کا معین و مددگار ہے۔ ہندوستان کی ولایت ہم نے تجھے عطا کی ہے، وہاں جاکر اجمیر میں قیام کرو اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرو‘‘۔ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم پاکر آپ بے حد مسرور ہوئے اور ہندوستان کی طرف روانہ ہو گئے۔ جس شہر سے آپ گزرتے وہاں کے اولیاء اللہ سے ملاقات کرتے۔ ہر روز دورانِ سفر دو قرآن کریم ختم کرتے۔ جس جگہ پہنچتے عقیدت مندوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا۔
اس سفر کے دوران آپ بلخ پہنچے، وہاں سے غزنی تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے ہندوستان کی جانب روانہ ہوئے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ جس شہر سے بھی گزرتے عوام کو اپنے روحانی فیض سے مستفیض فرماتے، یہاں تک کہ آپ لاہور پہنچ گئے۔ پھر لاہور سے دہلی کے لئے روانہ ہوئے اور دہلی میں آپ نے چند روز قیام فرمایا۔ جتنے دن تک دہلی میں آپ کا قیام رہا، آپ کی قیامگاہ پر ہر وقت خلق خدا کا ہجوم رہتا۔ بالآخر آپ اپنے آخری مسکن یعنی ’’اجمیر شریف‘‘ پہنچ گئے اور وہاں حکم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق دین کی تبلیغ و اشاعت میں مشغول ہو گئے۔ آپ کا وصال ۶؍ رجب المرجب ۶۳۳ھ کو ہوا۔

TOPPOPULARRECENT