Friday , September 21 2018
Home / تفریح / سلمان خان کو دھکہ ، راجستھان ہائیکورٹ کا حکم کالعدم

سلمان خان کو دھکہ ، راجستھان ہائیکورٹ کا حکم کالعدم

نئی دہلی ۔ 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کالے ہرن کے شکار کیس میں بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے مواخذہ کو معطل رکھنے راجستھان ہائیکورٹ کے حکم کو کالعدم کردیا، جبکہ اس کیس میں تحت کی عدالت نے اداکار کو پانچ سال کی سزا سنائی تھی۔ جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے اور اے کے گوئیل کی بنچ نے کہا کہ ہائیکورٹ کو قانون کے مطابق اداکار کی تازہ د

نئی دہلی ۔ 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کالے ہرن کے شکار کیس میں بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے مواخذہ کو معطل رکھنے راجستھان ہائیکورٹ کے حکم کو کالعدم کردیا، جبکہ اس کیس میں تحت کی عدالت نے اداکار کو پانچ سال کی سزا سنائی تھی۔ جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے اور اے کے گوئیل کی بنچ نے کہا کہ ہائیکورٹ کو قانون کے مطابق اداکار کی تازہ درخواست پر غور کرنا ہوگا۔ بنچ نے گذشتہ سال 5 نومبر کو ہائیکورٹ کے فیصلہ پر اٹھائے گئے سوال کے بعد اپنے فیصلہ کو محفوظ رکھا تھا۔ ہائیکورٹ نے میگا اسٹار کے مواخذہ پر حکم التوا جاری کیا تھا۔ عدالت نے کیس کی میرٹ کا اندازہ کئے بغیر یہ فیصلہ کیا تھا اور جس کے بعد سلمان خاں کو اپنے پیشہ ورانہ مصروفیات کیلئے برطانیہ جانے کیلئے ویزا حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ سلمان نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اگر ہائیکورٹ کی جانب سے ان کی سزا پر حکم التوا جاری نہیں کیا گیا تو انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے بیرونی سفر کے حق پر منفی اثر پڑے گا۔ سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے ریاستی حکومت نے سلمان خاں کے خلاف درخواست داخل کی تھی اور

ہائیکورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ ہائیکورٹ نے 12 نومبر 2013ء کو انہیں 2006ء میں دی گئی سزا پر حکم التوا جاری کیا تھا، جس کے بعد ہی انہیں برطانوی حصول ویزا کیلئے راہ ہموار ہوئی تھی۔ قبل ازیں عدالت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایک اداکار کی زندگی میں ان کی عمر ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر قطعی فیصلہ تک انہیں بیرونی سفر کی اجازت نہیں دی گئی تو اس سے ان کے کیریئر کو دھکہ لگے گا۔ برطانوی ایمگریشن قانون کے تحت کوئی بھی شخص چار سال سے زائد کیلئے سزا یافتہ ہو تو وہ ویزا کیلئے اہل نہیں ہوگا۔ لہٰذا سلمان خاں کو اس کیس میں پانچ سال کی سزا ہوئی تھی اور برطانیہ نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ ہندوستانی مجرم کے پاسپورٹس پر لفظ ’’مواخذہ‘‘ کا اسٹامپ لگایا جاتا ہے۔ کالے ہرن کوایک محفوظ جانور سمجھا جاتا ہے، اس کا شکار قانون کی رو سے قابل مواخذہ جرم ہے۔ سلمان خاں کو 26 ، 27 ستمبر 1998ء کی شب کالے ہرن کا شکار کرنے کی پاداش میں سزا ہوئی تھی۔ اس کیس میں سیف علی خان، سونالی بیندرے، تبو اور نیلم کو بھی جودھپور کے قریب شکار کے الزام میں عدالتی کشاکش کا شکار ہونا پڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT