Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / سلوا جوڈم کی طرح گاؤ رکھشکوں پر پابندی عائد کی جائے

سلوا جوڈم کی طرح گاؤ رکھشکوں پر پابندی عائد کی جائے

سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست پر مرکز اور ریاستوں کو نوٹس

نئی دہلی 22 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت، ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے استفسار کیاکہ گاؤ رکھشکوں پر پابندی کیوں نہ عائد کی جائے جوکہ ملک بھر میں قانون اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ عدالت نے ایک کانگریس لیڈر تیجس ایس پون والا کی پیش کردہ ایک مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس دلیپ مصرا اور جسٹس امیتاؤ رائے پر مشتمل بنچ نے درخواست گذار کے وکیل سنجے ہیگڈے کے دلائل کی سماعت کے بعد نوٹس جاری کی ہے۔ پوند والا، گاؤ رکھشکوں پر پابندی کے لئے عدالت العالیہ سے رجوع ہوئے ہیں۔ جبکہ دلتوں اور اقلیتوں پر حملوں کے لئے مورد الزام ٹھہرایا۔ انھوں نے یہ استدلال پیش کیاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ (گاؤ رکھشک) قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایڈوکیٹ فاضل احمد ایوبی کے ذریعہ داخل کردہ مفاد عامہ کی درخواست میں ’سلوا جوڈم‘ پر امتناع کی مثال دی گئی اور گاؤ رکھشک تنظیموں کے خلاف اسی نوعیت کی پابندی عائد کرنے کی گذارش کی گئی جوکہ کمزور طبقات کو حملوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اس کیس میں مرکزی وزیرداخلہ کے علاوہ ریاستوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے جہاں پر تحفظ گائے کی آڑ میں تشدد برپا کیا گیا ہے۔ درخواست گذاروں نے جارحیت پسند گاؤ رکھشک گروپس کے خلاف فی الفور کارروائی کا مطالبہ کیا جوکہ قانون شکنی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ جبکہ یہ خطرہ اور رجحان ملک کے طول و عرض میں تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے اور ان گروپس کی کارستانیوں سے مختلف فرقوں اور ذاتوں میں سماجی ہم آہنگی متاثر ہورہی ہے۔ پونڈوالا نے وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ ایک تقریر کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ خود ساختہ گاؤ رکھشک تنظیموں کے تشدد سے سماجی اخوت اور بھائی چارگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیوں کہ یہ گروپ، قانونی حدود سے آگے بڑھ کر کارروائی کررہے ہیں جوکہ قانون کی سنگین خلاف ورزی کی تعریف میں آتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT