Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سماجی اقدار پر مبنی قانونی نظام تیار کرنے کی وکالت

سماجی اقدار پر مبنی قانونی نظام تیار کرنے کی وکالت

قانون میں اصلاحات کی ضرورت ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا وکلا سے خطاب
حیدرآباد 10 ستمبر ( پی ٹی آئی ) آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ قانون میں اصلاحات لائی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا قانونی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو سماج کی اقدار پر مبنی ہو۔ اکھل بھارتیہ آدھوکتا ( وکلا ) اسوسی ایشن کی سلور جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ حالانکہ نیا دستور ملک کی آزادی کے بعد تیار کیا گیا ہے لیکن کچھ قدیم قوانین کو بیرونی ذرائع سے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دستور ہمارے بانی قائدین کی ’بھارتیہ ‘ اقدار پر مبنی فکر کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا لیکن کئی قوانین ایسے ہیں جو ہم اب بھی استعمال کرتے ہیں اور وہ بیرونی ذرائع پر مبنی ہیں اور ان قوانین کو ان کی سوچ کے حساب سے بنایا گیا ہے ۔ آزادی کے بعد سات دہے گذر چکے ہیں اور اس بات کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ موہن بھاگوت نے مطالبہ کیا کہ سارا نظام سماج کی اقدار پر مبنی ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا قانونی نظام اس طرح کے اقدار پر مبنی ہونا چاہئے ۔ اس پر ایک مباحث اور تبادلہ خیال شروع ہونا چاہئے ۔ قومی سطح پر ایک جامع مباحث کے بعد ہمیں اتفاق رائے پر آنے کی ضرورت ہے اور اس طرح کا نظام عوام کیلئے پیش کیا جانا چاہئے ۔ یہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس سے نہ صرف ہمارے ملک کو فائدہ ہو بلکہ اس سے دوسرے ممالک کیلئے بھی مثال قائم ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسری اقوام کے ان کے اپنے اصول ہیں۔ لیکن ہمارے اصول اخلاقی اور اقدار پر مبنی نظام کو اجاگر کرتے ہیں۔ سنگھ کے سربراہ نے انقلابی برسا منڈا اور دیگر 400 قبائلیوں کے مقدمہ کی مثال دی جو برطانوی سامراج نے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد شروع کرنے پر شروع کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ قبائلی جو بات کہہ رہے تھے اس کو ثالث صحیح سمجھ نہیں پائے اور ٹرائیل جج جو کہہ رہے تھے اور ملزمین جو کہہ رہے تھے اس میں مواصلاتی فقدان تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہی فرق آج بھی موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا انصاف کا نظام قانونی دائرہ کار کے تحت ہے لیکن جو کچھ قانونی ہے وہ اخلاقی اعتبار سے درست نہیں بھی ہوسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایمرجنسی کے دوران پولیس کو یہ حق تھا کہ وہ کسی کو بھی گولی ماردے اور کوئی بھی سوال نہیں پوچھ سکتا تھا ۔ قانونی طور پر اس وقت پولیس درست تھی لیکن کیا اخلاقی طور پر وہ درست تھا ؟ ۔ انہوں نے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ان کی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق صدر سے قانونیت کی تشریح کیلئے کہا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اخلاقیات ہی قانونیت ہے ۔ اس وقت میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا اس کا الٹ بھی ایسا ہوسکتا ہے ؟ ۔ ہم سب کو اس پر غور کرنے کی ضرور ت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT