Saturday , August 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / سماجی ناانصافی اور نفرتوں کی سازش کا خاتمہ ضروری

سماجی ناانصافی اور نفرتوں کی سازش کا خاتمہ ضروری

اوقافی جائیدادوں پر وائیٹ پیپر جاری کرنے حکومت سے مطالبہ، سنگاریڈی میں بی ایل ایف کا جلسہ، ٹی ویرا بھدرم، محمد مجید اللہ خاں فرحت کا خطاب
سنگاریڈی 21 ؍ فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) 30 ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی سیاسی و سماجی تنظیموں اور کمیو نسٹ جماعتوں پر مشتمل ’’ بہوجن لفٹ فرنٹ ( بی ایل ایف) ‘‘ کا ضلعی سطح پر جلسہ عام بالاجی گارڈن فنکشن ہا ل سنگاریڈی میں بی ملیش سکریٹری سی پی ایم پارٹی ضلع سنگاریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی جلسہ عام سے ٹی ویرا بھدرم سکریٹری جنرل سی پی ایم پارٹی ریاست تلنگانہ و کنوینر بی ایل ایف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے اور غریب و بچھڑے طبقات کے عوام کو ان کے حقوق دلوانے کیلئے بی ایل ایف کا قیام عمل میں آیا ہے۔ سال 2019 کے عام انتخابات میں بی ایل ایف ریاست تلنگانہ کے تمام 119 اسمبلی نشستوں پر مقا بلہ کریگی اور سماج کے تمام طبقات کو ان کی آبادی کے تنا سب سے ٹکٹس فراہم کئے جائیںگے، عملی سیاست میں بی ایل ایف سماجی انصاف کی مثال اور پیمانہ قائم کر تے ہوئے کانگریس ‘ تلگو دیشم ‘ ٹی آرایس اور بی جے پی کو سماجی انصاف کے اس معیار کو قبول کرنے کا چیلنج کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی جماعت اقتدار پر فائز ہو تی ہے وہ بد عنوانیوں میں ملوث رہی ہے اور سرکاری خزانے کی لوٹ کھسوٹ کی ہے کسی بھی حکومت نے عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ نہیں دی گذشتہ 70 سال سے صحت ‘ تعلیم ‘ آبپاشی ‘ اور زراعت جیسے شعبہ جات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی آج بھی سرکاری دواخانے ‘ اسکولس وکالجس ابتر حالت میں ہیں نہ ہی معیاری تعلیم کا انتظام ہے او رنہ ہی بہتر طبی سہولیات فراہم ہیں اچھی تعلیم اور بہتر علاج کیلئے غریب عوام کو کارپوریٹ اداروں میں لاکھوں روپئے خرچ کرنا پڑ رہا ہے تلنگانہ کے قیام کے بعد بھی غریب عوام اور کسانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو ئی ،تلنگانہ میں کسان خود کشی کر رہے ہیں صنعتیں بند ہو رہی ہیں بیروز گاری بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے عوام سے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ کا طا قتور ہتھیار ہے چنانچہ وہ اپنا ووٹ اپنے مسائل کی یکسوئی اور سماجی انصاف کو عملی جامہ پہنانے بی ایل ایف کے حق میں استعمال کریں جناب محمد مجید اللہ خاں فرحت صدر مجلس بچائو تحریک وکنوینر بی ایل ایف نے کہا کہ اس ملک میں ہندو مسلمان شیرو شکر کی طرح رہتے بستے ہیں، ان کا آپسی بھا ئی چا رہ او رگنگا جمنی تہذیب مثالی ہے لیکن ملک پر راج کرنے والوں نے اقتدار اور لوٹ و کھسوٹ کیلئے ایک سازش کے تحت ہندو مسلم میں نفاق پیدا کرنے تعصب اور نفر توں کا بازار گرم کر رکھا ہے سا زش کا خاتمہ اور سماجی انصاف بی ایل ایف کا منشور ہے انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ٹی آر ایس حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل میں یکسر ناکام ہو چکی ہے ٹی آر ایس حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ و ترقی کا وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ وفا نہیں کیا درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی دیڑ ھ لاکھ کروڑ روپئے مالیتی موقوفہ اراضی کو وعدے کے مطابق وقف بورڈ کے حوالے نہیں کیا گیا ریاست میں مقبو ضہ اوقا فی جائیدادوں کو واپس حاصل کرنے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تلنگانہ میں 5 لاکھ کروڑ روپئے مالیتی اوقافی جائید ادیں ہیں اس کا استعمال مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی ترقی کیلئے ہو نا چا ہیے وقف یونیور سٹی ‘ میڈیکل کالج ‘ انجینر نگ کالج قائم کئے جائیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اوقافی جائیدادوں پر قر طاس ابیض ( وائیٹ پیپر )جاری کیا جائے، مجیداللہ خاں فرحت نے کہا کہ انتخابات میں سامراجی طاقتیں اپنی دولت کی طاقت کی نمائش کرتی ہیں ووٹ کیلئے پیسے کا لا لچ دیتے ہیں عوام کو سامراجی طاقتوں کے اس حربے کو ناکام بنا تے ہوئے بی ایل ایف کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے ایم سوریہ پرکاش چیرمین بی ایل ایف نے کہا کہ ملک کے تمام سیاسی جماعتیں اعلی ذاتوں کے تسلط کو فروغ دے رہی ہیں ملک میں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتوں کی جملہ آبادی 93 فیصد ہے اس کے باوجود صرف 7 فیصد پر مبنی اعلی ذاتیں ہم پر راج کر رہے ہیں اس سماجی نا انصافی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اقتدار کی با گ ڈور93 فیصد آبادی والے طبقات کے ہا تھ میں ہو آئندہ انتخابات میں بی ایل ایف تمام طبقات کو ان کی آبادی کی تناسب سے نمائندگی دیگی انہو ںنے کہا کہ بی ایل ایف ریاست میں شراب بندی و نشہ بندی کی بھر پور وکالت اور تائید کر تی ہے جلسہ کو ایم سی پی آئی ( یو) قائد کرانتی کمار ‘ صدر سی آئی ٹی یو چکا راملو اور دیگر بی ایل ایف قائدین نے بھی مخا طب کیا ۔ جلسہ میں مجلس بچائو تحریک قائدین مصطفی محمود ‘ محمد اجمل الدین فاروقی ‘ محمد غوث ڈاکٹر ‘ محمد چاند ‘ واجد خان ‘ محمد سکندر اور محمد محبو ب خاں صدر آواز کمیٹی سنگاریڈی و دیگر قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT