Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سماج میں زہریلی باتیں کرنے والوں کو یکا و تنہا کیا جائے

سماج میں زہریلی باتیں کرنے والوں کو یکا و تنہا کیا جائے

مسلمان عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں ، مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا خطاب
حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے کسی بھی سماج اور کسی بھی قوم میں زہریلی اور ملک کو توڑنے کی باتیں کرنے والوں کو یکا و تنہا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ حج ہاوز میں عازمین حج کے ٹیکہ اندازی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مختار عباس نقوی نے ملک میں گاؤ رکھشا کے نام پر جاری تشدد کا حوالہ دیئے بغیر موجودہ حالات پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ انہیں ملک میں خود کو عدم تحفظ کا شکار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور حکومت ہر کسی کے جان و مال کے تحفظ کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کے راستہ پر گامزن نہیں ہوسکتا جبکہ ملک میں یکجہتی، بھائی چارہ اور محبت نہ ہو۔ ایسی طاقتیں جو یکجہتی، بھائی چارہ اور محبت کی دشمن ہیں انہیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی طاقتوں کو شکست دینے کیلئے صرف حکومت کچھ نہیں کرسکتی بلکہ سماج اور عوام کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسی بھی سماج اور کسی بھی قوم میں ایسے افراد ہیں جو زہریلی اور ملک کو توڑنے والی اور بھائی بھائی کو لڑانے اور بھائی بھائی کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کا کام کرتے ہیں انہیں سماج میں یکا و تنہا کرنا پڑے گا۔ یہی ہماری سب سے بڑی یکجہتی اور سب سے بڑی طاقت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طاقتیں نہ صرف ملک کی دشمن ہیں بلکہ ہمارے بھائی چارہ کی دشمن ہیں اور ہم ان طاقتوں کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم صاف طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ایسی طاقتوں کو کسی بھی طرح بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ دنیا اور ملک کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ایسی طاقتوں کو کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یکجہتی وہ طاقت ہے جو ملک کو ترقی کی سمت لے جاسکتی ہے۔ ملک اور عوام کی ترقی اسی میں مضمر ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کے تحفظ کو خطرہ نہیں پہنچا سکتی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ملک میں امن وامان کیلئے دعا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں تلنگانہ کی طرح گنگا جمنی تہذیب کو عام کیا جانا چاہیئے اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے امن و ضبط کی صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا گیا ہے اور اس کا سہرا وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کے سر جاتا ہے۔ ان کی بہتر مساعی کے نتیجہ میں ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے جبکہ متحدہ آندھرا پردیش میں یہ عام تھے۔ قبل ازیں رکن اسمبلی نامپلی جعفر حسین معراج نے گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ دلت اور مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ حکومت کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کریں۔ انہوں نے مختار عباس نقوی سے اپیل کی کہ وہ ملک میں گاؤ رکھشکوں کی سرگرمیوں کی مذمت کریں۔

TOPPOPULARRECENT