Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / سماج وادی پارٹی سے اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

سماج وادی پارٹی سے اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

نئی دہلی ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دو حریف جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے اتحاد کے بہار تجربہ کا اترپردیش میں امکان واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی سے ہاتھ ملانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی اس تجویز کو

نئی دہلی ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دو حریف جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے اتحاد کے بہار تجربہ کا اترپردیش میں امکان واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی سے ہاتھ ملانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کی اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا کہ کٹر حریف بی ایس پی اور ایس پی کو اترپردیش میں عظیم اتحاد تشکیل دینا چاہئے۔

مایاوتی نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی نے عملاً ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرے گی۔ مایاوتی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب کبھی سماج وادی پارٹی اقتدار پر آئی جرائم، فرقہ وارانہ تشدد، عصمت ریزی اور ڈکیتی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کا یہی طریقہ کار رہا ہے اور اگر ایسے واقعات نہ ہوں تو پھر اس پارٹی کا صفایا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایس پی کے ساتھ اتحاد اور متحدہ مقابلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قبل ازیں سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر آر جے ڈی سربراہ اس ضمن میں پیشرفت کرتے ہیں تو انہیں اترپردیش میں بی ایس پی کے ساتھ ہاتھ ملانے میں کوئی قباحت نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر لالو جی اس ضمن میں پہل کریں تو ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آر جے ڈی سربراہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایس پی اور بی ایس پی کو ایک دوسرے سے اتحاد کرتے ہوئے اترپردیش میں بی جے پی کو شکست دینی چاہئے۔

مایاوتی نے کہا کہ آج اترپردیش میں لوگ بی ایس پی دورہ حکومت کو یاد کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مایاوتی حکومت دوبارہ اقتدار پر آئے تاکہ ریاست میں امن و ہم آہنگی بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرے گی اور انہیں یقین ہیکہ وہ دوبارہ اترپردیش میں اقتدار حاصل کرے گی۔ اسے کسی اور جماعت کی تائید کی بالکل ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اقتدار پر آنے کی صورت میں غیرسماجی عناصر سے سختی سے نمٹے گی اور عصمت ریزی کے واقعات کو ختم کیا جائے گا۔ ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کیلئے انہوں نے ایس پی اور بی جے پی دونوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اندرونی طور پر ہاتھ ملا چکے ہیں چنانچہ بی ایس پی کے کسی اور جماعت سے اتحاد کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT