Wednesday , December 13 2017
Home / سیاسیات / سماج وادی پارٹی کے ایک اور ایم ایل سی مستعفی

سماج وادی پارٹی کے ایک اور ایم ایل سی مستعفی

ملائم سنگھ کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے تکلیف ہوئی ، اشوک باجپائی کا دعویٰ
لکھنؤ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی کو آج ایک اور دھکہ پہنچا جبکہ رکن قانون ساز کونسل اشوک باجپائی نے کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح اب تک 4 ارکان پارٹی سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ باجپائی نے کہا کہ وہ سینئر قائدین جیسے ملائم سنگھ یادو کے ساتھ اختیار کردہ طرز عمل سے ناراض تھے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سماج وادی پارٹی کے 3 ارکان قانون ساز کونسل نے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ ذرائع کے مطابق باجپائی بھی بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے صدرنشین کونسل رمیش یادو کو استعفیٰ حوالے کرنے کے بعد بتایا کہ نیتاجی (ملائم سنگھ یادو) کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے، اس سے وہ کافی دکھی ہیں۔ انہیں پارٹی میں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا دن دیکھنے کیلئے پارٹی کو مضبوط نہیں بنایا تھا۔ سینئر قائدین کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے جو پیام عوام تک پہنچ رہا ہے، وہ بالکل واضح ہے۔ 4 اگست کو سماج وادی پارٹی ایم ایل سی سروجنی اگروال نے کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے استعفیٰ کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی میں وہ خود کو بے چین محسوس کررہی تھی، کیونکہ ملائم سنگھ یادو کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیتاجی کی وجہ سے ہی وہ دو مرتبہ پارٹی ایم ایل سی رہی ہیں۔ اب چونکہ وہ پارٹی میں سرگرم نہیں ہیں، اس لئے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ انہیں پارٹی میں کسی سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ وہ ہر ایک کا احترام کرتی ہیں۔ پارٹی میں پھوٹ کے بعد انہیں کافی دکھ پہنچا ہے، ایسا محسوس ہوا جیسا کہ وہ پارٹی میں کام نہیں کررہی ہیں۔ اس سے پہلے 29 جولائی کو صدر بی جے پی امیت شاہ کے دورۂ لکھنؤ کے موقع پر سماج وادی پارٹی کے 2 اور بہوجن سماج پارٹی کے ایک ایم ایل سی نے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 3 موجودہ ایم ایل سیز بکل نواب اور یشونت سنگھ (دونوں سماج وادی پارٹی) اور ٹھاکر جئے ویر سنگھ (بی ایس پی) نے ایوان کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پانچ ارکان قانون ساز کونسل بشمول چار ایس پی اور ایک بی ایس پی کا استعفیٰ اس لئے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بی جے پی عنقریب یو پی میں اس کے پانچ وزراء بشمول چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں فیصلہ کرے گی جو اب تک اسمبلی یا کونسل کے رکن نہیں ہیں۔ انہیں بحیثیت وزیر برقراری کیلئے اسمبلی یا کونسل کا رکن منتخب ہونا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT