Sunday , October 21 2018
Home / سیاسیات / سمندر پار ہندوستانیوں کو بالواسطہ ووٹنگ کی سہولت

سمندر پار ہندوستانیوں کو بالواسطہ ووٹنگ کی سہولت

لوک سبھا میں بل پیش ‘سرویس ووٹرس کیلئے بیوی کے بجائے شریک حیات کی اصطلاح کا استعمال
نئی دہلی 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سرویس ووٹرس کے خطوط پر سمندر پار ہندوستانیوں کو دوسروں کے ذریعہ ووٹ دینے (بالواسطہ رائے دہی) کی سہولت کی فراہمی کیلئے لوک سبھا میں آج مسودہ قانون پیش کیا گیا۔ سرویس ووٹرس کو فائدہ پہونچانے اس مسودہ نے انتخابی قانون کو صنفی اعتبار سے غیر جانبدار بنانے ’بیوی‘ کی اصطلاح کو ’شریک حیات‘ کے ذریعہ تبدیل کیا ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد کی طرف سے آج ایوان زیریں میں پیش کردہ ’قانون عوامی نمائندگی (ترمیمی) بل 2017 کی دفعات کے مطابق سمندر پار ہندوستانی بھی ہندوستان میں ووٹ دینے کے مستحق ہوں گے اور اپنا ووٹ ڈالنے کسی فرضی یا نمائندہ ووٹر کو نامزد کرسکتے ہیں۔ سمندر پار ہندوستانیوں کو فی الحال ان حلقوں میں ووٹ ڈالنے کی آزادی ہے جہاں ان کے نام درج ہیں لیکن مسودہ قانون کے مطابق انھیں بالواسطہ رائے کا اختیار حاصل ہوجائیگا جو تاحال صرف فوجیوں کو حاصل تھا۔ اس موضوع پر کام کرنے والی الیکشن کمیٹی کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے 2015 ء میں وزارت قانون کو ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کیا تھا تاکہ سمندر پار ہندوستانیوں کو بالواسطہ ووٹنگ کی سہولت کی فراہمی کیلئے انتخابی قوانین میں ترمیم کی جاسکے۔ الیکشن کمیشن کو دستیاب غیر سرکاری اعداد کے مطابق تقریباً 10,000 تا 12,000 سمندر پار ہندوستانی اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرتے ہیں اور دوسرے محض ہندوستان پہونچ کر ووٹ ڈالنے کرنسی خرچ کرنا نہیں چاہتے۔ مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ووٹ ڈالنے ملک آنے کے لزوم سے سمندر پار ہندوستانیوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ ترمیمی بل میں ایک اور دفعہ فوجی خدمات کے شریک حیات (شوہر ؍ بیوی) سے متعلق ہے۔ انتخابی قانون کے مطابق تاحال کسی فوجی اہلکار کی بیوی ایک سرویس ووٹر کی حیثیت سے مندرج ہے۔ لیکن کسی خاتون فوجی افسر کا شوہر اس طرح درج نہیں کیا گیا ہے لیکن مسودہ قانون نے بیوی کی موجودہ اصطلاح کو ختم کرکے اسکے بجائے ’شریک حیات‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ صنفی مساوات و غیر جانبداری کو یقینی بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT