Sunday , August 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / سنتوش کمار‘ فیفا کے ریفری یا آٹو ڈرائیور

سنتوش کمار‘ فیفا کے ریفری یا آٹو ڈرائیور

بنگلور۔14 جون (سیاست ڈاٹ کام ) ’’دنیا میں سب سے آسان کام آٹو رکشہ چلانا ہے‘ میں باس ہوں کیونکہ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں۔‘‘اگر یہ الفاظ کسی اور رکشہ ڈرائیور کے ہوتے تو اسے یہ جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا کہ تین پہیوں کی دنیا میں رہنے والے کسی شخص نے یہ بات کہی ہے۔لیکن یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو کیرالا کے کوٹایم شہر میں رکشہ چلات

بنگلور۔14 جون (سیاست ڈاٹ کام ) ’’دنیا میں سب سے آسان کام آٹو رکشہ چلانا ہے‘ میں باس ہوں کیونکہ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں۔‘‘اگر یہ الفاظ کسی اور رکشہ ڈرائیور کے ہوتے تو اسے یہ جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا کہ تین پہیوں کی دنیا میں رہنے والے کسی شخص نے یہ بات کہی ہے۔لیکن یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو کیرالا کے کوٹایم شہر میں رکشہ چلاتے ہیں تاکہ وہ ایک کامیاب ترین بین الاقوامی فٹ بال ریفری بن سکے۔سنتوش کمار ان چھ ہندوستانی ریفریز میں سے ایک ہیں جنہیں گذشتہ چار برسوں سے فیفا بین الاقوامی فٹ بال میچ کے ریفری کے طور پر منتخب کر رہی ہے۔وہ اپنے روزگار کے بارے میں اپنے کریر کے سب سے مشکل میچوں میں ریفری بننے کی طرح ہی فکرمند ہیں۔سنتوش کمار نے چین، ابو ظہبی میں کئی فٹ بال میچوں میں ریفری کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ ہندوستان میں بھی گھریلو مقابلوں میں ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنتوش کمار نے کہاکہ مَیں صرف آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) سے ملنے والی تنخواہ پر گزارہ نہیں کر سکتا۔ اگر کل میں زخمی ہو گیا تو کیا ہو گا؟

اس لئے مجھے اضافی کمائی کی ضرورت ہے۔فٹ بال سے جب فرصت ملتی ہے تو زیادہ پیسہ کمانے کے لئے وہ رکشہ کی بجائے کار بھی چلاتے ہیں۔ سنتوش کمار کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ 40 سال کے ہو چکے ہیں، لیکن ان تمام لوگوں سے فٹ ہیں، جن کے ساتھ انھوں نے کبھی فٹ بال کھیلا تھا۔انھیں علم ہے کہ ان کے پاس ریفری کی ذمہ داری نبھانے کیلئے پانچ سال ہی باقی ہیں۔انھوں نے 1995 میں 12 ویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اورانکے بموجب میں نے سوچا مجھے فٹ بال کھیلنے کے لئے نوکری مل جائے گی لیکن انھوں نے مقامی ٹیموں کے لئے 2008 ء تک کھیلا اور پیسے کمائے۔ اور انڈر 21 فٹ بال کیمپ میں بھی حصہ لیا لیکن اس میں وہ منتخب نہیں ہوئے۔ریفری بننے میں ان کی دلچسپی اس وقت ظاہر ہوئی جب کیرالا میں میمین میتھیو کپ ٹورنمنٹ کے دوران ریفری کے لئے وہ لائزن افسر بنائے گئے تھے اور دیکھا کہ ریفری کو کافی عزت ملتی ہے۔سنتوش کے بموجب جب اسوسی ایشن نے ریفری کیلئے ایک ٹسٹ منعقد کیا تو میں نے اس میں حصہ لیا اور میرا نتیجہ اچھا رہا۔ لیکن 1998ء میں ایک مقامی ٹیم کے لئے کھیلتے ہوئے میرے دائیں پاؤں میں چوٹ لگ گئی۔ میں دوڑ سکتا ہوں لیکن کھیل نہیں سکتا کیونکہ میں دائیں پیر سے کھیلنے والا کھلاڑی ہوں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT