Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / سنندا پشکر کی موت طبعی نہیں تھی : دہلی پولیس کمشنر

سنندا پشکر کی موت طبعی نہیں تھی : دہلی پولیس کمشنر

ایمس طبی بورڈ کی تحقیقات کا نتیجہ ۔ تمام پہلووں سے جائزہ کے بعد انجام تک پہونچنے کا یقین
نئی دہلی 15 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس لیڈر ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی موت بالکل طبعی نہیں رہی ہے تاہم ان کے جسم سے کوئی تابکاری اشیا برآمد نہیں ہوئی ہیں۔ دہلی پولیس نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیس کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی اساس پر یہ دعوی کیا ہے ۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے آج کہا کہ اب اس کیس کو بہت جلد اس کے منطقی انجام تک پہونچایا جائیگا اور تمام امکانی پہلووں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات بالکل واضح ہے کہ یہ موت طبعی نہیںتھی ۔ یہ غیر فطری اور غیر طبعی موت تھی اور ہماری تحقیقات میںاب تک جو شواہد جمع ہوئے ہیںاس کی بنیاد پر وہ یہ دعوی پوری قطعیت سے کرسکتے ہیں۔ گذشتہ سال جنوری میں دہلی پولیس نے سنندا پشکر کی موت کے سلسلہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا ۔ آل انڈی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسیس کے بورڈ کا خیال تھا کہ سنندا کی موت کی وجہ زہر ہے جس کے بعد پولیس نے کچھ نمونے ایف بی آئی لیب کو واشنگٹن روانہ کئے تھے ۔پہلے یہ شبہ کیا جا رہا تھا کہ سنندا پشکر تابکاری اشیا کے ذریعہ زہر دینے سے ہلاک ہوئی ہیں۔ ایف بی آئی نے دہلی پولیس کو دو ماہ قبل اپنی رپورٹ روانہ کی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنندا کے نمونوں میں ریڈئیشن کی سطح حفاظتی اصولوں کے دائرہ کار میں ہی تھی ۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کی اساس پر چونکہ پولیس سنندا کی موت کی وجہ پتہ نہیں کر پا رہی ہے ایسے میں ایمس کی ایک میڈیکل بورڈ کو رپورٹ کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔

مسٹر بسی نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے اپنی گیارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کردی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کچھ نتائج اخذ کئے ہیں اور اب ان کی تحقیقات شروع کی جائیں گی ۔ سنندا پشکر 17 جنوری 2014  کو دہلی میں ایک ہوٹل میں اپنے کمرہ میں مردہ پائی گئی تھیں۔ کہا گیا ہے کہ ایک دن قبل ہی ان کی پاکستانی صحافی مہر تارڑ کے ستاھ ٹوئیٹر پر بحث ہوئی تھی جو تارڑ کے ششی تھرور سے افئیر کے تعلق سے تھی ۔ کمشانر پولیس دہلی نے کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ایف بی آئی نے اپنی رپورٹ میں کسی خطرناک کمیکل کی دستیابی کا ادعا کیا ہو۔ ایف بی آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے جسم سے کوئی ریڈیائی یا تابکاری مواد یا مادہ دستیاب نیہں ہوا ہے ۔ وہ اس کی توثیق نہیں کرسکتے لیکن اتنا ضرورت کہہ سکتے ہیں کہ سنندا پشکر کی موت طبعی نہیں تھی ۔ ایف بی آئی نے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے کہ سنندا پشکر کے احشا سے کوئی تابکار مادہ برآمد نہیں ہوئے کہا کہ اس کی موت زہرخورانی کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے بموجب کسی خطرناک کیمیائی مادہ کے استعمال سے بھی سنندا کی موت ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT