سنکیانگ میں زیادہ تر مسلمان ہلاک ہوئے : رپورٹ

بیجنگ۔5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ برس چین کے صوبہ سنکیانگ میں چار سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر تعداد اقلیتی ایغور مسلمانوں کی تھی، جو بیجنگ حکومت سے مزید حقوق چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق صوبے میں ایغور مسلمانوں کی ہلاکتیں چینی نسل ہان کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھیں۔ گزشتہ برس چین کے صوبے سنک

بیجنگ۔5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ برس چین کے صوبہ سنکیانگ میں چار سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر تعداد اقلیتی ایغور مسلمانوں کی تھی، جو بیجنگ حکومت سے مزید حقوق چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق صوبے میں ایغور مسلمانوں کی ہلاکتیں چینی نسل ہان کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھیں۔ گزشتہ برس چین کے صوبے سنکیانگ میں تشدد کی ایک نئی لہر دیکھی گئی۔ مقامی حکومت اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے ایغور مسلمانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتی ہے جبکہ ان پر ’’علیحدگی پسندی‘‘ کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ نے جاری کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT