Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / سنگارینی انتخابات کے نتائج پر چیف منسٹر کو بوکھلاہٹ

سنگارینی انتخابات کے نتائج پر چیف منسٹر کو بوکھلاہٹ

قائد اپوزیشن جاناریڈی کو ’’چور‘‘ قرار دینے کی مذمت : ملوبٹی وکرامارک
حیدرآباد ۔ 7 اکٹوبر (سیاست نیوز) ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملوبٹی وکرامارک نے چیف منسٹر کی جانب سے قائد اپوزیشن جاناریڈی کو چور قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اپنی زبان کو لگام دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ سنگارینی انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کو تقریباً 20 ہزار ووٹ حاصل ہونے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کے سی آر بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملوبٹی وکرامارک نے کہا کہ عوام دشمن پالیسیوں پر عمل کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کا سیاسی میدان میں عرصہ حیات تنگ ہورہا ہے۔ سنگارینی انتخابی نتائج اس کا ثبوت ہے۔ حکمراں ٹی آر ایس نے دولت، طاقت، شراب کا بیجا استعمال کیا۔ تمام سرکاری مشنری اور ٹی آر ایس کی تمام سیاسی طاقت جھونک دی۔ وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی کو سنگارینی کی انتخابی مہم میں پہنچا دیا۔ کنٹراکٹرس کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود حکمران ٹی آر ایس کی مزدور محاذی تنظیم کو 24 ہزار ووٹ آئے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو تقریباً 20 ہزار ووٹ حاصل ہوئے۔ صرف 4 ہزار ووٹوں کی کامیابی کو تاریخی کامیابی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ اپوزیشن کو حاصل ہوئے ووٹوں سے چیف منسٹر کے سی آر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہیں 2019ء میں ٹی آر ایس کی شکست کا اندازہ ہوگیا ہے۔ پارٹی کیڈر میں پائی جانے والی مایوسی کو دور کرنے کیلئے عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے قائد اپوزیشن کے جاناریڈی کو چور قرار دیا اور نہرو سے سونیا گاندھی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اپنا ڈروخوف ظاہر کیا ہے۔ ملوبٹی وکرامارک نے کانگریس قیادت اور جاناریڈی کے خلاف کئے گئے ناشائستہ ریمارکس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا۔ بصورت دیگر اسمبلی اور کونسل کے مجوزہ اجلاس میں اس کو موضوع بحث بنانے کا انتباہ دیا اور کہا کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر نے جو الفاظ کا استعمال کیا ہے اس سے سخت الفاظ استعمال کرنا جانتے ہیں مگر ہماری تہذیب و تمدن اور تربیت ہمیں اس کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT