Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / سنگھ پریوار دلتوں کا سب سے بڑا دشمن

سنگھ پریوار دلتوں کا سب سے بڑا دشمن

ظفر آغا

گجرات پھر جل اُٹھا ، پچھلے سال دو سال کے اندر گجرات میں دو مرتبہ وہاں کے عوام حکومت اور سرکاری عملے کے خلاف سڑکوں پر نکل پڑے۔ پہلے ہاردک پٹیل کی قیادت میں پٹیل برادری کے لاکھوں افراد اپنے لئے سرکاری اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کے لئے سڑکوں پر نکلے اور ابھی پچھلے ہفتے ہزارہا دلتوں نے حکومت کے خلاف مظاہرے کرڈالے۔ گجرات میں صرف مظاہرے ہی نہیں ہوئے بلکہ اس بار تو تقریباً دو درجن دلت نوجوانوں نے خودکشی کی بھی کوشش کرڈالی۔ آخر کیا بات ہے کہ ہندوستان کا ’ ماڈل اسٹیٹ‘ گھڑی گھڑی بھڑک اُٹھتا ہے، وہاں کیا ہورہا ہے کہ کبھی پٹیل جیسی ذات اور کبھی دبے کچلے بے زبان دلتوں کا غصہ پھٹ پڑتا ہے۔ اس بار گجرات میں کیا ہوا سبھی واقف ہیں۔ ایک دلت خاندان مردہ گائے کی کھال اُتار رہا تھا کہ گاؤ رکھشک سمیتی کے افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور بھرے بازار میں ان دلت افراد کو جو ان کے بقول گاؤ ماتا کی بے ادبی کررہے تھے انہوں نے کوڑے برساڈالے۔ ابھی تک یہ کوڑے مارنے کی سزا ہم اسلامی ممالک میں سنتے آئے تھے، اب گجرات میں بھی یہ ہورہا ہے، کیا گجرات بھی اسلامک اسٹیٹ ہوگیا ہے۔؟

جی نہیں، گجرات اسلامک اسٹیٹ قطعی نہیں ہے، وہ تو ہندوتوا اسٹیٹ ہے جہاں پچھلی ایک دہائی سے زیادہ حکومت وقت باقاعدہ ہندوتوا ایجنڈہ نافذ کررہی ہے۔ یہ سمجھنے کیلئے آپ کو آر ایس ایس کے بانیوں میں سے ایک لمبے عرصہ تک رہے اس کے پرمکھ گرو گولوالکر کے نظریات کو سمجھنا ہوگا۔ دراصل آر ایس ایس کو نظریاتی رنگ روپ دینے میں گولوالکر کا اہم رول رہا ہے۔ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر مانتے تھے اور اس کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے کوشاں تھے۔ گروہ گولوالکر نے اپنے ہندوتوا نظریات کو اپنی ایک کتاب
We,or our Nationhood Defined
میں قلمبند کئے ہیں۔ اپنی اس کتاب میں وہ اپنے طرز کے بارے میں کھل کر لکھتے ہیں کہ ’’ اقلیتیں ہندوستان میں بطور ایک مہمان رہ سکتی ہیں لیکن ان کو اس ملک کے باشندے ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ یعنی سنگھ کے ہندوستان میں اقلیتوں کو محض دوسرے درجہ کی حیثیت مل سکتی ہے۔ چنانچہ گجرات کی ہندوتوا اسٹیٹ میں 2002 کے فرقہ وارانہ دنگوں کے بعد اقلیتوں کے ساتھ کیا ہوا اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اب یہ حال ہے کہ گجرات میں مسلمان کسی اکثریتی ہندو کالونی میں خرید کر بھی اپنا مکان نہیں بناسکتا۔ یعنی وہ دوسرے درجہ کا شہری بھی نہیں ہے کیونکہ وہ بطور مہمان بھی ہندو بستیوں میں نہیں رہ سکتا۔ یہ تو رہا اقلیتوں کا معاملہ۔ اب سوال یہ ہے کہ غیر اعلیٰ ذات ہندوؤں کو ہندو اسٹیٹ میں کیا حیثیت حاصل ہوسکتی ہے، اس سلسلہ میں بھی گرو گولوالکر نے بہت صفائی سے اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ وہ اپنی اس کتاب میں یوں قلم طراز ہیں۔

’’ منو اسمرتی وہ مقدس کتاب ہے جو ہندوؤں کے لئے وید کے بعد سب سے زیادہ قابل احترام ہے۔ اس مقدس کتاب میں ہندوتوا کے اُصول قلمبند ہیں جو صدیوں سے ہندو مانتے چلے آرہے ہیں اور آج اس دور میں بھی منوا سمرتی ہی ہندو قانون ہے‘‘۔ اب آپ کی سمجھ میں آیا کہ ہندوتوا کے معنی منو سمرتی ہے اور گرو گولوالکر کے بقول سنگھم کے لئے ہندو راشٹرا کے معنی منوا سمرتی کے قوانین ہیں۔ اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ منوا سمرتی کے قوانین کیا ہیں۔ منوا سمرتی وہ مقدس کتاب ہے جو انسان کو برابری کا درجہ دینے کے بجائے ان کو یعنی ہندوؤں کو چار ذاتوں میں بانٹتی ہے جو برہمن، چھتری، بنیا اور نچلی شودر ذاتیں ہیں۔ دلت اس شودر ذات کا حصہ ہیں جو اچھوت ہیں۔ یعنی دلت کو انسان کا درجہ منوا سمرتی نہیں دیتی بلکہ جانوروں کی طرح غلام بناکر رکھنے کی تلقین یہ کتاب کرتی ہے۔ منو اسمرتی کے مطابق دلت یعنی اچھوت مندروں میں قدم نہیں رکھ سکتے، وہ اعلیٰ ذات کی بستیوں میںداخل نہیں ہوسکتے۔ اگر ان کے کانوں میں غلطی سے بھی وید کی آواز چلی جائے تو بقول منواسمرتی دلتوں کے کان میں بطور سزا کھولتا ہوا سیسہ پلادینا چاہیئے۔

یہ ہے دلتوں کے تعلق سے سنگھ کا نظریہ اور گجرات سنگھ کی ماڈل اسٹیٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ماڈل اسٹیٹ میں دلتوں کا کیا حال ہوگا۔ دلت گجرات میں پچھلے دس بارہ برسوں میں اپنے کو غلام سے بدتر محسوس کررہا ہے۔ وہ کبھی اگر مری ہوئی گائے سے کھال اُتارکر اس کو بیچ کر اپنی زندگی بسر کرنے کی جرأت کرتا ہے تو وشوا ہندو پریشد والے اس کو کوڑے مار کر زدکوب کرتے ہیں۔ لیکن آج کا ہندوستان منوا سمرتی کا ہندوستان نہیں ہے۔ اس آزاد ہندوستان کو آئین دینے والی شخصیت کا نام تھا بھیم راؤ امبیڈکر جو خود ایک دلت تھے۔ اس آئین کے مطابق ہر شہری خواہ وہ اعلیٰ ذات کا ہو یا دلت ذات کا وہ برابر ہے جس پر منوا سمرتی کے قوانین لاگو نہیں ہوتے ۔ مگر سنگھ آج بھی منوا سمرتی کو ہی اپناآئین تصو ر کرتاہے اور اپنی ماڈل اسٹیٹ گجرات میں دلتوں پر دیہی قوانین نافذ کررہاہے، تب ہی تو اس ماڈل اسٹیٹ میں آج دلت کی زندگی ایسی جہنم ہوچکی ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہورہا ہے۔

یہ تو رہا گجرات کا حال، اب ذرا اتر پردیش کی بھی کہانی سن لیجئے۔ وہاں بی جے پی کے نائب صدر صاحب نے دلتوں کی سب سے معزز لیڈر اور قابل احترام بہوجن سماج پارٹی کی صدر محترمہ مایاوتی کو فاحشہ کہہ ڈالا۔ جب منواسمرتی کے بقول دلت کو کوئی حق ہی نہیں تو پھر منواسمرتی ماننے والوں کے لئے دلت عورت فاحشہ ہوسکتی ہے۔ لیکن ان سنگھ گھرانے والوں کو یہ معلوم نہیں کہ آج کا ہندوستان منو اسمرتی کا ہندوستان نہیں ہوسکتا۔ یہاں اب آزادی کو 70برس ہونے والے ہیں، اس ملک میں 60 برسوں سے جمہوریت کا بول بالا ہے۔ یہاں امبیڈکر کا آئین چلتا ہے، منوا سمرتی کے قوانین نہیں چلتے۔بھلے ہی گجرات کا دلت خودکشی کی بات کررہا ہو لیکن اس کی اکثریت جو اتر پردیش اور گجرات دونوں جگہ سڑکوں پر اُتر چکی ہے اور اپنے حق کی لڑائی لڑرہی ہے۔

ہندوستان کا دلت ہو یا کوئی اور یہاں ہر کسی کو اپنا حق حاصل کرنا آتا ہے اور ہر ہندوستانی اپنا حق اپنے ووٹ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ اتفاقاً ابھی چند مہینوں میں اتر پردیش اور پنجاب اسمبلی کے چناؤ آنے والے ہیں ان دونوں ریاستوں میں دلت و وٹر بہت بڑے تناسب میں پایا جاتا ہے۔ اتر پردیش میں تو مایاوتی تین بار ریاست کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یو پی چناؤ میں بی جے پی کو دلتوں کی بدسلوکی کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ پنجاب کا دلت بھی اب بی جے پی کو ووٹ دینے سے رہا، اگر بی جے پی کے ہاتھوں سے اتر پردیش جیسی ریاست نکل گئی تو بہار کے بعد یہ سنگھ پریوار کے لئے کراری ہار ہوگی۔ خیر چناؤ کے نتائج کیا آئیں گے یہ تو چناؤ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ لیکن اس اکیسویں صدی میں منوا سمرتی میں یقین رکھنے والوں کا جادو بہت دن تک نہیں چل سکتا۔ کم از کم منوا سمرتی سے گھبراکر دلت تو سنگھ سے بھاگ ہی گیا ، اتنا ابھی ضرور کہا جاسکتا ہے۔ آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔

TOPPOPULARRECENT