Tuesday , June 19 2018
Home / سیاسیات / سنگھ پریوار ریاست مغربی بنگال میں مضبوطی سے قدم جمانے کوشاں

سنگھ پریوار ریاست مغربی بنگال میں مضبوطی سے قدم جمانے کوشاں

پریوار سے ملحق تمام تنظیموں بشمول وی ایچ پی‘ اے بی وی پی اور راشٹریہ سیویکا سمیتی کا عروج، ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کی نظر میں خطرناک

پریوار سے ملحق تمام تنظیموں بشمول وی ایچ پی‘ اے بی وی پی اور راشٹریہ سیویکا سمیتی کا عروج، ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کی نظر میں خطرناک
کولکتہ۔ 11؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ مغربی بنگال کی سیاست میں بی جے پی کے ایک کلیدی سیاسی پارٹی کی حیثیت سے اُبھرنے کے بعد آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ سنگھ پریوار کی پارٹیوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ اب ریاست مغربی بنگال میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کی کوشش کررہی ہیں۔ آر ایس ایس کے ترجمان اعلیٰ منموہن ویدیا نے ایک خبر رساں ادارہ سے کہا کہ ملک گیر سطح پر آر ایس ایس کی لہر چل رہی ہے اور بنگال ملک کا ہی ایک حصہ ہے۔ اکثریتی طبقہ، اقلیتوں کی خوشامد پر برہم ہے اور یہ بنگال میں بی جے پی کے عروج کی ایک اور وجہ ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اب ریاست کے ہر بلاک تک پہنچنا ہے۔ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا تھا اور 10 ہزار سے زیادہ سنگھ پرچیتی ورگاس منعقد کئے تھے جن کا اہتمام گزشتہ چند ماہ میں کیا گیا تھا۔ قبل ازیں آر ایس ایس نے کئی شاکھائیں قائم کی تھیں، لیکن اب تک آر ایس ایس کا ریاست مغربی بنگال میں کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا۔ گزشتہ دو سال سے آر ایس ایس نے 1500 روزانہ کیمپس پورے مغربی بنگال کے علاقہ میں منعقد کئے ہیں۔ سنگھ کے ترجمان برائے جنوبی بنگال جشنو باسو نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کا نظریہ اب سماج کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کے لئے پُرکشش بن گیا ہے۔ وی ایچ پی، آر ایس ایس کی ایک اور تنظیم ہے جو جارحانہ انداز میں ہندو راشٹر کے نظریہ کی تائید کرتی ہے۔ اس کا بھی دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں مغربی بنگال میں اس کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے طلبہ کا شعبہ اے بی وی پی کل تک ریاست کے طلبہ کی سیاست میں کوئی مقام نہیں رکھتا تھا۔ اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور سی پی آئی ایم زیر اثر طلبہ تنظیموں کے درمیان تھا، لیکن اب اے بی وی پی نے بھی طلبہ کی سیاست میں اپنے قدم جمالئے ہیں۔ راشٹریہ سیویکا سمیتی خواتین سے ربط پیدا کررہی ہے۔ اس کی معتمد تنظیمی ریتا چکربورتی نے کہا کہ بنگالی خواتین میں ہمارا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ بی جے پی نے تعلق رکھنے والی ان تنظیموں کا عروج ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ سلطان احمد کے بموجب ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے ایک خطرہ ہے۔ سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ محمد سلیم کا بھی خیال ہے کہ اگر ان طاقتوں کے خلاف جدوجہد نہ کی جائے تو بہت خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT