Monday , April 23 2018
Home / اداریہ / سنگھ پریوار میں پھوٹ کے آثار

سنگھ پریوار میں پھوٹ کے آثار

میں پریشاں تھا ، پریشاں ہوں نئی بات نہیں
آج وہ بھی ہیں پریشان خدا خیر کرے
سنگھ پریوار میں پھوٹ کے آثار
بی جے پی اور سنگھ کی دیگر تنظیموں میں بڑے آدمیوں کی نشانیاں اب صرف مرکزی قیادت کی نشانی میں تبدیل کردی جارہی ہیں ۔ نریندر مودی نے اپنے سامنے بی جے پی کی تمام قد آور سیاسی شخصیتوں کے گھٹنے ٹیکا دیئے ہیں ۔ ایل کے اڈوانی نے بی جے پی کو لوک سبھا میں 2 نشستوں سے بڑھاکر اکثریت کی سطح تک لے جانے میں اہم رول ادا کیا تھا اب یہ طوطی بولتا شخص چپ ہے ۔ اسی طرح وی ایچ پی میں شر انگیز بیانات دینے کے لیے مشہور پروین توگڑیا کو بھی چپ کرانے کی کوشش کی گئی ہے اب انہیں وی ایچ پی سے خارج کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے تو گڑیا نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کی ہے یا پھر توگڑیا کو اپنی امیدوں پر پانی پھرتا دِکھ رہا ہے ۔ اس لیے انہوں نے مرکز کی بی جے پی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو اب انہیں گھر کا راستہ دکھانے کی تیاری ہورہی ہے ۔ وی ایچ پی میں بڑے آدمی بننے والے پروین توگڑیا نے اپنی زبان کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں کے خلاف ہر وہ لفظ ادا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ سنگھ پریوار کے پسندیدہ شعلہ بیان لیڈر بن گئے تھے ۔ اب یہی لیڈر سنگھ پریوار اور بی جے پی کے لیے درد سر بن چکا ہے ۔ انہوں نے جب محسوس کیا کہ مرکزی حکومت اپنی ہندوتوا پالیسیوں سے ہٹ کر کام کررہی ہے اور ان کے ناپاک عزائم پورے نہیں ہورہے ہیں تو انہوں نے بی جے پی کی مرکزی قیادت اور وی ایچ پی پر الزام تراشی شروع کردی اور یہ کہا کہ میری آواز دبانے کے لیے مجھے ہلاک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ان کی بیان بازی کے بعد وی ایچ پی پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ ایک گروپ توگڑیا کو تنظیم سے خارج کردینے پر بضد ہے دوسرے گروپ نے توگڑیا کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے وی ایچ پی میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ پروین توگڑیا اور نریندر مودی نے ایک دوسرے کے ساتھ کافی وقت گذارا ہے ۔ ہندوتوا پالیسیوں پر عمل آوری کی قسمیں کھائی تھیں ۔ دونوں کٹر پسند ہندوتوا کے سب سے بڑی وکالت کرنے والے قائدین تھے لیکن جیسے ہی چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندر مودی نے اقتدار حاصل کیا تو مودی نے محسوس کیا کہ اب انہیں اپنے شعلہ بیان دوست پر لگام کسنے کی ضرورت ہے کیوں کہ مودی نے اس ملک کے دستوری عہدہ کا حلف لیا تھا اور یہ دستور کسی بھی شخص کو من مانی کی اجازت نہیں دیتا ۔ جب پروین توگڑیا نے محسوس کیا کہ بی جے پی ، آر ایس ایس اور وی ایچ میں انہیں اہمیت نہیں دی جارہی ہے تو وہ باغی ہوگئے اور الزام عائد کیا کہ پولیس نے انہیں انکاونٹر کے ذریعہ مارنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ان الزامات کو درست وقت میں ثابت کریں گے مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کو Z پلس سیکوریٹی حاصل تھی اسے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے عوام کے درمیان پہونچنے میں درست وقت کا انتظار کیوں ہے ۔ اگر تم سچے ہو تو تمہیں درست وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے لیکن وشوا ہندوپریشد میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ ملک میں ہیجان انگیز فضا پیدا کرنے میں ہر دم کوشاں رہتی ہے ۔ بی جے پی کو اقتدار تک پہونچانے میں اس نے اہم رول ادا کیا ہے لیکن اچانک وی ایچ پی میں احساس کمتری اور محرومی پیدا ہونے لگی کیوں کہ اس ملک میں بی جے پی کی سرپرستی میں اچانک گاؤ رکھشک کے نام خود ساختہ ٹولے سامنے آنے لگے اور ان کا خیال تھا کہ وہ گائے کے نام پر کسی بھی شخص کا گلہ کاٹنے کے لیے آزاد ہیں ۔ ان لوگوں نے یہ فراموش کردیا کہ اس ملک کے دستور نے سیکولر اقتدار اور بقائے باہم کو ترجیح دی ہے اور ہر آنے والی حکومت اس دستور کے تحفظ کا عہد کرتے ہوئے حلف لیتی ہے اور موجودہ حکومت بھی اس دستور کی پابند ہے وہ مذہب کی آڑ میں حکومت نہیں چلا سکتی جب پروین توگڑیا نے دیکھا کہ مرکزی حکومت کٹر ہندوتوا سے دور ہورہی ہے اور اپنی بقا خطرے میں ہے تو انہوں نے سنگھ پریوار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور یہ بغاوت انہیں مرکزی قیادت سے دور کردے گی ۔ اس کے بعد سنگھ پریوار پھوٹ کا شکار ہوجائے تو بی جے پی کو دوسروں کے گھروں میں جھانکنے کا سبق مل جائے گا ۔ بی جے پی ، سنگھ پریوار میں سیاسی اختلافات اب ذاتی دشمنی بن رہی ہے اور پروین توگڑیہ بھی اس ذاتی دشمنی کا شکار بن کر بتدریج فرقہ پرستی کے پودے کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں لیکن جب ان کی فرقہ پرستی کی پیچ ہی ڈھیلی پڑ گئی ہے تو اب وہ بی جے پی کے لیے کس کھیت کی مولی ہیں ؟ ۔۔

TOPPOPULARRECENT