Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / سنگھ پریوار کے خطرناک ارادے مسلمان کیا کریں؟ چند تجاو یز

سنگھ پریوار کے خطرناک ارادے مسلمان کیا کریں؟ چند تجاو یز

 

انور معظم
سنگھ پریوار کے خطرناک ارادوں کے پیش نظر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سماجی، معاشی اور تہذیبی سوچ اور اس پر مبنی کام کرنے کے طور طریقوں پر نظر ثانی کریں اور ان میں ضروری تبدیلیوں کے مختلف منصوبے تیار کرنے کا کام جلد از جلد شروع کیاجائے۔ تبدیلیوں کے منصوبوں کے بغیر اس طرح کے خطرناک ارادوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ محض اپنی اسلامی شناخت پر اصرار، اسلام کی حقانیت پر وعظ دینا، ماضی میں مسلمانوں کی سیاسی فتوحات اور سلطنت سازیوں کے قصیدے پڑھنے سے مسائل تو حل نہیں کیے جاسکتے۔ مسلمانوں کو محض سامعین بنادینا خطرناک نادانی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اجتماعات میں اگر اس قسم کے خطابات کو موقوف کرنا ممکن نہ ہو تو ان کی جگہ ضرور محدود کردی جائے اور زیادہ جگہ مسلم معاشروں کے آج کے سماجی ، معاشی اور تہذیبی مسائل پر گفتگو کو دی جائے۔
یہ کام کسی ایک صوبے یا شہر میں نہیں مختلف جگہوں پر کیا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ عملی منصوبوں کی عمل آوری کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ایک شناخت ہونے کی بجائے مختلف مسلم معاشروں کے وجود کو تسلیم کیا جائے۔ ہندوستان ایک مذہبی، لسانی اور تہذیبی تکثیر رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے مختلف مذہبی، لسانی اور تہذیبی علاقوں میں، صوبوں میں یہ مسلم معاشرے بسے ہوئے ہیںاور ان میں ان علاقوں کے لسانی، ادبی اور معاشرتی عناصر بھی شامل ہوچکے ہیں چنانچہ تامل ناڈو، کیرالا، تلنگانہ کے مسلم معاشرے جو سماجی اور تہذیبی شناخت رکھتے ہیں، وہ یوپی اور بنگال کے مسلم معاشروں سے مختلف ہیں۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں کے منصوبوں کی تشکیل متعلقہ مسلم معاشروں کے سوچنے والے ہی کریں۔چونکہ اس کام کا تعلق مذہب سے نہیں ہے اس لیے امید ہے کہ اس میں سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مل کر کام کریںگے(ویسے اگر وہ چاہیں تو ایک دوسرے کے خلاف مناظروں کا شوق جاری رکھ سکتے ہیں)
اگر آزادی کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے خود مسلمانوں کی رضاکار تنظیموں کا جائزہ لیا جانے تو تامل ناڈو، کیرالا، کرناٹک اور حیدرآباد میں ۳۰، ۴۰ سال سے کئی تنظیمیں کام کررہی ہیں اور اسی لیے ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں جنوبی ہند کے مسلم معاشروں کی حالت بدرجہا مستحکم ہے۔ اوپر جس قسم کا کام بہ درجہ تجویز کیا گیا ہے وہ زیادہ مؤثر طور پر مسلم رضاکار تنظیمیں ہی کرسکتی ہیں (اور آج کے حالات کے تحت یہ اور بھی درست دکھائی دے رہا ہے۔
میری تجویز ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں اس طرح کی تنظیمیں قائم کی جائیں۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ جنوبی ہند میں ’’مسلم ایجوکیشنل کانفرنس‘‘، بنگلور میں ’’الامین‘‘اور حیدرآباد میں ایسی ہی تنظیمیں نہایت کامیابی کے ساتھ تعمیری کام کررہے ہیں۔ ان تمام فلاحی اداروں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان میں مذہب اور سیاست کے عمل دخل کی غیر موجودگی ہے۔ میری تجویز ہے کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والی ایسی تنظیموں اور اداروں کی ایک کانفرنس کی جائے تاکہ ایک دوسرے کے کام کرنے کے طور طریقوں سے واقفیت کا موقع فراہم ہوسکے اور اس سے سب استفادہ کرکے اپنی کارکردگی اور بڑھاسکیں۔ اس سلسلے میں یہ ملحو ظ رہے کہ ہر تنظیم یا ادارہ خود اپنے طور پر کام کرنے کی آزادی رکھتا ہے۔ کوئی کل ہند قسم کی تنظیم کے قیام کا خواب دیکھنا نقصان دہ تعبیرات ہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
تحصیل علم:
کیا یہ ضروری نہیں کہ مساجد اور دوسرے دینی اجتماعات میں امام، خطیب اور علماء حصول علم کی دینی فضیلت بھی واضح کیا کریں؟ اس لحاظ سے بھی اسلام دیگرمذاہب سے الگ ہے۔ یہی وہ تصور علم ہے جس نے دسویں سے پندرھویں صدی ہجری کے درمیان مختلف سماجی علوم، طبعی علوم، طب و تاریخ، جغرافیہ، فلکیات، فلسفہ، منطق وغیرہ سے عہد متوسط کی دنیا کو متعارف کرایا۔ یہی وہ علوم تھے جو بعد میں (۱۷)ویں صدی کے یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا سبب بنے (اس کا اعتراف اب مغرب میں ہونے لگا ہے) لیکن بعد میں علم کا یہ تصور جسے قرآن مجید میں ’’حکمت‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے مختلف سیاسی اور نظریاتی وجوہات سے پیچھے پڑگیا۔ علم کو اسلامی اور غیر اسلامی خانوں مین بانٹ دیاگیا۔ مسلم تہذیب کے زوال کے اسباب میں یہ سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ جو کچھ بھی میں نے کہا ہے اس کا مقصد کوئی نیا مسئلہ کھڑا کرنا نہیں ہے بلکہ مسلم معاشروں کے سماجی، معاشی اور تہذیبی استحکام اور انھیں خارجی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہنے کے قابل بنانے میں علم کے سب سے اہم ذریعہ ہونے پر زور دینا ہے۔

دینی تعلیم:
میرا یقین ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے (چاہے ان کی زبان کوئی بھی ہو) علوم اسلامیہ کا ایک ہی منبع ہے ‘ اردو ۔ اردو زبان عربی کے بعد غالباً دنیا کی دوسری زبان ہے جس میں اسلامی عقائد اور بنیادی ذرائع ان کی شرحوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس لیے ملک کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام سے واقفیت کے لیے اردو زبان سیکھیں، تاوقیکہ خود ان کی زبانوں میں تمام مصادر منتقل نہ ہوجائیں۔ لیکن بے حد تشویش ہے کہ اردو زبان اور اردو رسم الخط سے ناواقفیت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ اترپردیش کے اردو بولنے والے بہت تیزی سے اردو زبان اور رسم الخط سے دستبردارہوگئے ہیں۔ اب یہ حال ہے کہ قبرستان میں قبروں کے کتبے ہندی میں لکھے جاتے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبۂ دینیات میں طالب علم امتحانی بیاضات ہندی میں لکھتے ہیں۔انگریزی نے ملک کی دوسری زبانوں کی طرح اردو کو بھی حصول علم کے چوکھٹے سے باہر کردیاہے ۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ ملک کی دوسری زبانیں اور اردو وہ علوم نہیں رکھتیں جو معاشروں کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ انگریزی زبان کا اس لحاظ سے سیکھنا ضروری ہے۔ معاشی تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے۔ لیکن اتنا ہی ضروری تہذیبی تحفظ ہے اور یہ صرف اردو زبان اور اس میں موجود علمی اور ادبی ذخائر سے استفادے ہی سے ممکن ہے۔ اسلام کے بارے میں معلومات کے لیے انگریزی زبان ایک ناموزوں ذریعہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ انگریزی زبان کے ذریعے نہ اسلام کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ سمجھایا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ انگریزی میں اسلامی تصورات کے لیے موزوں اصطلاحات کا فقدان ہے جو بھی اصطلاحات رائج ہیں وہ زیادہ تر مغربی علما کے تعصبات کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن مغربی علماء نے مسلم معاشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی اداروں پر جو کام کیا ہے وہ بلا شک بیش قیمت ہے ان پہلوؤں کو مسلمان علماء نے پوری طرح نظر انداز کردیا تھا سوائے چند مستثنیات کے، جیسے ابن خلدون۔
دینی مدارس کا نصاب: موضوع زیر گفتگو میں دینی مدارس کے نصاب کو نوعیت بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اس پر شبلی اور ابوالکلام آزاد سے لے کر اب تک بحث ہورہی ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مدارس میں پڑھنے والے مسلمان بچے جملہ تعداد کابہت کم ہے اگر ان مدارس میں حالات کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی جائیں تو مدارس اسلام کی بدعتوں سے پاک، صاف ، شفاف صورت کو سامنے لانے کے قوی امکانات رکھتے ہیں۔ اصلاحات سے مراد یہ کہ مدارس کے تعلیم یافتہ افراد کی معاشی ضروریات کی تکمیل کو دینی تعلیم کے ساتھ مربوط کردیاجائے۔ یہ مسئلہ ایک مدت سے زیر غور رہا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے جو مختلف حکومتوں اور مکاتیب خیال کی طرف سے آتا رہا ہے۔ وہ یہ کہ مدارس میں ان کے اپنے دینی نصاب کے ساتھ انگریزی، ریاضی، کمپیوٹر کا علم اور پیشہ ورانہ عصری تربیت کا انتظام بھی فراہم کیا جائے۔ میرا خیال ہے اب مسلمانوں کے مختلف مکاتیب خیال اس کی ضرورت کو تسلیم کرچکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس کے لیے مدارس کے مختلف درجات میں اسباق تیار کرنے کا کام شروع کیا جائے۔

عام تعلیم:
بہتر تبدیلیوںکے عمل میں تعلیم سب سے اہم ذریعہ ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے بے حد غریب، متوسط اور دلت طبقات کے لیے کس طرح کی تعلیم مہیا کی جائے۔ اس پر سوچنا ہوگا۔ ہر طرح اور ہر درجے کی تعلیم کے لیے مدارس، کالج اور جامعات موجود ہیں۔ یہ سرکاری ہیں اور نجی بھی ہیں۔لیکن مسلمانوں کی معاشی صورت حال اور اس کے نسبت سے مختلف طبقات کے لیے تعلیم کے انتظامات کرنے ہوںگے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آج کل کے حالات میں مسلمان ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو انھیں معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد کریــ ـ ہر ایک اعلی تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ اعلی تعلیم اور پیشہ ورانہ ہنرمندی کے درمیان مسلمانوں کی اکثریت پیشہ ورانہ ہنرمندی کو ترجیح دے گی۔ ایسی مثالیں بھی سامنے آتی رہیتی ہیں کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے پبلک سروس امتحانات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن اس وقت ہم اکثریت کی تعلیمی ضروریات کی بات کررہے ہیں۔ متوسط اور دلت طبقے کے طلبا کے لیے اعلی تعلیم کے وسیع میدان ہیں۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھیں تو حسب ذیل تجویز پر غور کیا جاسکتاہے۔
تمام طلبا دسویں یا انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کریں۔ اس کے بعد آگے کی تعلیم کو دو دھاروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
پہلا تعلیمی دھارا : اعلی تعلیم کا دھارا ہے۔ اور دوسرا وہ جو پیشہ ورانہ، مختلف ہنر سکھانے کے کورسز اور ڈپلوما کورسز جو مستقل ہو، ان کے ذریعے طلبا گھریلو صنعتوں یا چھوٹی صنعتوں کے لیے تیار کیے جائیں۔
دوسرا اعلی تعلیم کا دھارا: گریجویٹ اور پوسٹ گریجوٹ کورسز کا دھارا ہے اس کے لیے سرکاری اور نجی کالج، جامعات، انفارمیشن ٹکنالوجی کے اعلی ادارے موجود ہیں۔ اور چونکہ اس میں زیادہ تر معاشی طور پر بہتر طبقات کے طلبا جائیں گے تو ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم مسلمان طلبا کی اکثریت کی بات کررہے ہیں جو بہت غریب ، غریب، متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ موجود اداروں میں سال دوسال کورس کرکے تجارت یا چھوٹی صنعتوں کے شعبے میں جاسکتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسلم رضاکار تنظیموں کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے لیے بنگلور کی ’’الامین‘‘ اور حیدرآباد کی ’’زکات فاونڈیشن‘‘ جیسے اداروں کا قیام ضروری ہوجاتا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے ادارے قائم ہونے چاہیٔں۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ لیکن یہی کرنا ہوگا۔ سرکاری امداد اور اقلیتی کارپوریشن وغیرہ سے پوری مدد لینی چاہئیے۔ اور ہمیں ایسی مدد اسکالرشپس کی صورت میں مل بھی رہی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ اور سرکاری اداروں سے مدد حاصل کرنا آسان بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اپنی سماجی اور معاشی اور تعلیمی رضاکار تنظیموںکے قیام کے بغیر غریب مسلمانوں کی تعلیم کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ جنوبی ہند میں ایسے ادارے کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ متعدد کالج بہت اچھی طرح کام کررہے ہیں۔ تامل ناڈو، کیرالا، کرناٹک اور تلنگانہ(حیدرآباد) میں کام کرنے والے تعلیمی اداروں کو ملک کے دوسرے حصوں میں مثال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وقف بورڈ تعلیم کے لیے ایک علحدہ مالیہ کا استعمال کریں۔ اس پر ایک ملک گیر تحریک کی ضرورت ہے۔ صرف یہی ایک ذریعہ مسلمانان ہند کی تعلیمی اور معاشی ضروریات کو بڑی حد تک پورا کرسکتا ہے۔

اردو بطور ذریعہ حصول علم:
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کی بقا کے لیے اردو زبان کا سیکھنااور اس کا فروغ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہاںاردو زبان سکھانے کے دو اہم منصوبوں کا ذکر ہے۔
ُ(i)سیاست ادبی ٹرست:
تیس چالیس برس پہلے عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر صاحبان کی نگرانی میں اردو ٹرسٹ نے ایک انوکھا اور بے حد کامیاب تجربہ کیا تھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں یا مدرسوں میں اردو سکھانے کی کلاسس لیتے تھے۔ دو تین مہینے کی تعلیم کے بعد امتحانات ہوتے تھے۔ امتحانات کے مختلف مراکز کے معائنے کے لیے شہر کے ادیبوں، شاعروں کے وفود جاتے تھے۔ اس کے بعد سیاست کے دفتر کے ایک بڑے ہال میں امتحانی بیاضات کی جانچ یہیں ادیب، جامعات کے استاد کرتے تھے۔ اس کے بعد نتیجے شائع ہوتے تھے۔ یہ سب بغیر معاوضہ کیا جاتا تھا۔ اس نہایت کامیاب منصوبہ کے اخراجات سیاست کا ادبی ٹرسٹ برداشت کرتا ہے۔ اس ٹرست میں سرمایہ ایک سالانہ کل ہند مشاعرے کے انعقاد سے کیا جاتاتھا۔ یہ ادبی ٹرسٹ کا مشاعرہ،مشاعروں کی تاریخ میں پہلا مشاعرہ تھا جس میں سامعین ٹکٹ خرید کر شرکت کرتے تھے۔ اس مشاعر ے کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف صف اول کے شعرا ہی کو دعوت کلام دی جاتی تھی۔ نہایت اعلی درجے کی غزلیں اور نظمیں سنائی جاتی تھیں اور نمائش میدان ہزاروں سامعین کی داد و تحسین سے گونجتا رہتا تھا۔ان مشاعروں سے جو آمدنی ہوتی وہ ادبی ٹرسٹ کے اردو زبان سکھانے کے پروگرام اور اردو کتابوں کی اشاعت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ یہ ساری تفصیل اس لیے پیش کی گئی کہ اگر نیت صاف ہو، ارادہ مضبوط ہو تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتے ہیں۔
(ii) پرتھم اردو:
یہ ادارہ اردولکھنے اور پڑھنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے لیکن اردو والوں کو اس کی خبر نہیں۔ کوئی ۳۰ ، ۳۵ برس پہلے مادھو چوان نے ایک بہت وسیع پروجیکٹ شروع کیا جس کا مقصد مختلف زبان کے بولے والوں میں اس زبان کو پڑھنے اور لکھنے کی اہلیت پیدا کر نا ہے ۔ ان زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔ پرتھم اردو کا صدر دفتر ڈاکٹر پروین سید کی زیر نگرانی حیدرآباد میں کام کررہا ہے۔ اب تک اندازً بیس، اکیس لاکھ افراد اردو پڑھنا لکھنا سیکھ چکے ہیں۔ یہ کام ہر شہر کے مختلف محلوں میں کیا جارہاہے۔ بچوں کے لیے کوئی دیڑھ سوکتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ پرتھم کی کامیاب کارکردگی کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسے دو تین بار پاکستان بلایا گیا جہاں کئی ہزار اسکولوں کے اساتذہ کو پرتھم کے طریقہ تعلیم کی تربیت دی گئی۔ اس وقت پرتھم بہار اور کشمیر میں وہاں کی حکومتوں کے تعاون سے کام کررہی ہے۔
مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے ملک میں جو رضاکار تنظیمیں کام کررہی ہیں ان کی ایک کل ہند کانفرنس کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ اس میں متذکرہ بالا تجاویز کے ساتھ اور دوسری تجاویز پر تبادلۂ خیال کے ذریعے آگے کے عملی منصوبوں کو قطعی صورت دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT