Sunday , April 22 2018
Home / مضامین / سنگھ پریوار کے غنڈوں سے لڑنے والے جہدکار جسٹس بی جی کولسے پاٹل

سنگھ پریوار کے غنڈوں سے لڑنے والے جہدکار جسٹس بی جی کولسے پاٹل

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں اگر پچھلے تین چار برسوں کے حالات پر صرف ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ جدوجہد آزادی کے دوران مجاہدین آزادی کے خلاف مخبری کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دینے والے غدار عناصر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوگئے ہیں اور ایک گندی سوچ و فکر اور نظریہ کو فروغ دینے کے خفیہ ایجنڈہ پر انتہائی مہارت سے کام کررہے ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ سے ہی مختلف مذاہب کے ماننے، مختلف زبانوں کے بولنے، مختلف ذات پات رنگ و نسل اور علاقوں کی نمائندگی کرنے والوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اس کی گنگا جمنی تہذیب اور 1.30 ارب کثیر آبادی کے باوجود عوام میں غیر معمولی اتحاد و اتفاق ساری دنیا میں مثالی ہے۔ لیکن یہ بات بلاشک و شبہ ببانگ دہل کہی جاسکتی ہے کہ ملک میں جب سے مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کو صرف 31 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود اقتدار حاصل ہوا، ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب زوال کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ ایک بات ہم یہاں تمام ہندوستانیوں سے دریافت کرسکتے ہیں کہ مذہب کے نام پر بے قصور انسانوں کا قتل، جانوروں کے تحفظ کے بہانے انسانوں کی بربادی، اقلیتوں اور دلتوں پر حملے ان کے خلاف اشتعال انگیزی ، تعصب و جانبداری اور فرقہ پرستی کا زہر سادہ لوح و بھولی بھالی عوام کے ذہنوں میں گھولنے سے ہمارا جنت نشان ہندوستان ترقی کرے گا؟ کیا اس طرح کی ملک دشمن حرکات کوئی قوم پرست اور محب وطن فرد، جماعت یا تنظیم کرسکتی ہے؟ اور اگر نہیں کرسکتی تو ان عناصر کو کیا کہنا چاہئے؟ ہم نے یہ سوال اگرچہ اپنے سارے ابنائے وطن سے کیا لیکن ان سوالوں کے حقیقت پسندانہ جواب دینے کی ہمت و جرأت راقم الحروف کو ممبئی ہائیکورٹ کے سابق جج اور لوک شاسن آندولن کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے میں دکھائی دی۔ ان کے خیال میں ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والے بلاشبہ غداران وطن ہیں اور یہ عناصر دراصل قوم پرستی کی کھال اوڑھے ہوئے فرقہ پرست درندے ہیں اور اُن درندوں کو دلتوں، آدی واسیوں اور مسلمانوں کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں۔ انھیں بس ہندوتوا کی فکر لاحق ہے اور ہندوتوا سے کہیں زیادہ اپنے شخصی مفادات عزیز ہیں۔ حیدرآباد میں مختصر توقف کے دوران جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے دفتر سیاست تشریف لائے۔ انھوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں، منیجنگ ایڈیٹر جناب ظہیرالدین علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملک کی موجودہ صورتحال، فرقہ پرستوں کی سازشوں و منصوبوں اور مسلم اقلیت کی حالت زار جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ 77 سالہ جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے سنگھ پریوار، نریندر مودی، امیت شاہ اور دلتوں و مسلم اقلیت کی دشمن طاقتوں کے خلاف اظہار خیال میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ وہ جو بھی کہتے ہیں پورے دلائل کے ساتھ ببانگ دہل کہتے ہیں۔ ان کا ہر لفظ فرقہ پرستوں کے اذہان و قلوب پر بم بن کر گرتا ہے جس پر وہ تڑپ کر رہ جاتے ہیں۔ ان کے دلائل ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ سنگھ پریوار کا کوئی بھی لیڈر ان کے سوالات کا جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ان سے گفتگو کرکے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے ملک میں ایسی شخصیتیں اب بھی موجود ہیں جو اپنی جانوں کو فرقہ پرست غنڈوں سے سنگین خطرات کے باوجود ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے نہیں گھبراتے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے فرقہ پرست تو دور خوف کو بھی خوف ہوتا ہے۔ وہ جب اظہار خیال کرتے ہیں تو ایوان اقتدار میں بیٹھے متعصب فرقہ پرستوں پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔

ملک کے مواضعات، ٹاؤنس، شہروں اور ریاستوں میں مذہب کے نام پر دہشت پھیلانے والے کپکپانے لگتے ہیں۔ جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے پاٹل نے سہراب الدین شیخ مقدمہ کی سماعت کرنے والے سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی مشتبہ موت پر کئی ایسے سوالات اُٹھائے ہیں جس کا جواب مودی حکومت اور اس کی سرکاری مشنری بھی دینے سے قاصر ہے۔ وہ سنگھ پریوار کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کو ہندوستاسن کی سب سے بڑی دشمن کہہ کر اسے چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (انٹر سرویس انٹلی جنس ایجنسی) سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 24 کروڑ روپئے حاصل کئے۔ ان الزامات کا بھگوت یا آر ایس ایس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے پاٹل چیف منسٹر مہاراشٹرا فرنویس کو Rapist قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود کوئی ان کے الزامات کا جواب نہیں دیتا۔ اس سوال پر کہ آپ سنگھ پریوار اور اس کے سربراہ موہن بھاگوت، صدر بی جے پی امیت شاہ، وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے علاوہ چیف منسٹر مہاراشٹرا پر سنگین الزامات عائد کرتے رہتے ہیں، کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے پاٹل نے پرزور انداز میں جواب دیا کہ ان کی ماں جن کی عمر اب 103 سال کی ہوچکی ہے، بچپن میں ہی یہ بات ان کے ذہن میں بٹھادی تھی کہ ہمیشہ سچائی کا ساتھ دینا جھوٹ اور جھوٹے لوگوں کی مخالفت کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔ مظلوموں کی تائید و حمایت کرتے ہیں اور دروغ گو عناصر پر یلغار کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ آج ہندوستان میں ایسے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ مانا جارہا ہے۔ ایسے میں انسانیت نواز اور محب وطن ہر ہندوستانی کو اتحاد و یکجہتی کی ہندوستانی تہذیب اور انسانیت کی فکر کرنی چاہئے۔ چونکہ انھیں انسانیت کی فکر ہے اس لئے وہ مودی سے ڈرتے ہیں نہ امیت شاہ سے اور نہ ہی فرقہ پرست غنڈوں کا انھیں کوئی خوف ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں جسٹس (ریٹائرڈ) بی جی کولسے پاٹل کا کہنا تھا کہ گھر میں ان کی دو بیٹیاں، ایک بیٹا اور بیوی کے علاوہ ماں ہے اور سب کے سب کہتے ہیں کہ وہ (کولسے پاٹل) جو کچھ بھی کررہے ہیں اچھا کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ماں نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ لیا ہے ہم جھوٹ نہیں بولتے‘‘۔ گفتگو کے دوران انھوں نے برہمن ازم اور سامراجی طاقتوں کو ملک کے حقیقی دشمن قرار دیا ہے۔ ایک مرحلہ پر انھوں نے یہ بھی واضح کیاکہ ہندوستان کو ہندوستان نہیں بلکہ انڈیا یا بھارت کہنا چاہئے کیوں کہ تمام انڈین ہندو نہیں ہیں اور جہاں تک مسلمانوں کا سوال ہے انڈیا کا مسلمانوں اور مسلمانوں کا انڈیا کے بنا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برہمنوں نے دلتوں کو ہمیشہ ذلیل کیا۔ اس کے برعکس اسلام نے انڈیا میں مساوات کا پیام دیا جس سے انڈیا کے باشندے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔ حالیہ عرصہ کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس دیپک مصرا کے خلاف سپریم کورٹ کے چار ججس کی بغاوت اور اس کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا ہیکہ عدالتوں کا نہیں بلکہ ججس کا کردار مشکوک ہوگیا ہے۔ ایسے میں عدالتوں سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔

عدلیہ میں بھی برہمن واد کی اکثریت ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے خود اپنے محلہ کی مثال پیش کی اور کہا ’’میری گلی سے پانچ پانچ برہمن ججس کا تقرر کیا گیا‘‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عدلیہ اور برہمن ازم کے درمیان ’’سانٹھ گانٹھ‘‘ ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مصرا کے خلاف جسٹس چلمیشور، رنجن گوگوئی، کورین جوزف اور مدن لوکر نے علم بغاوت بلند کیا تھا اس کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جسٹس لویا کی موت سے متعلق مفاد عامہ کے تحت داخل کردہ درخواست کی سماعت جونیر جج کو الاٹ کی گئی۔ اس سے ججس میں جو بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں اس کے بارے میں سارا ہندوستان اچھی طرح واقف ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ابتداء میں سپریم کورٹ کے 8 سینئر ججس نے بغاوت کا علم بلند کیا تھا لیکن چار ججس نے انصاف رسانی اور حق کی خاطر آواز اُٹھانے سے پیچھے ہٹنا مناسب سمجھا۔ ان لوگوں نے ایسا کیوں کیا یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو ریاست کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا اشارہ سابق چیف جسٹس آف انڈیا پالا سوامی ستھا سیوم کی طرف تھا جنھیں کیرالا کا گورنر مقرر کیا گیا حالانکہ ماضی میں چیف جسٹس رہے ججس کو صدر، نائب صدر کے باوقار عہدہ پر فائز کیا گیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ججس ہو کہ سیاستداں ضمیر کی آواز پر کام کریں۔ جسٹس ریٹائرڈ کولسے کے مطابق انھیں اندازہ ہے کہ برہمن ججس دلت ججس کو مختلف بہانوں سے بہت تکلیف دیتے ہیں۔ انھیں ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ جسٹس کولسے 1985 ء تا 1990 ء بمبئی ہائیکورٹ کے جج رہے اور دلتوں و اقلیتوں کے خلاف برہمنوں کے ناروا سلوک کو دیکھتے ہوئے دلتوں کے حقوق کی لڑائی کے لئے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ آج وہ ملک میں دلتوں اور مظلوموں کی آواز بن گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ آج دانشوروں میں سب سے زیادہ خوف پایا جاتا ہے۔ وہ فرقہ پرستوں اور ظالموں کے خلاف آواز اُٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ان کی نظر میں ایسے ’’دانشور‘‘ ’’حرام خور‘‘ ہیں۔ جسٹس کولسے کے مطابق مسلمانوں کو دلتوں سے مل کر فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ وہ دلتوں اور آدی واسیوں سے قریب ہوں انھیں گلے لگائیں یہاں تک کہ مسلمان ہندو بستیوں میں جائیں ان کے پروگرامس میں شرکت کریں۔ ان سے قربت اختیار کریں اور یہ بتائیں کہ اس ملک میں مسلمانوں نے 800 سال حکمرانی کی لیکن ہمارے ملک میں ہندو ہی اکثریت میں رہے۔ انھوں نے جسٹس لویا کی موت کے بارے میں یہ بھی کہاکہ لویا کو امیت شاہ کے حق میں فیصلہ کے لئے 100 کروڑ روپئے رشوت کی پیشکش کی گئی انھیں رشوت قبول کرنے یا پھر سنگین عواقب و نتائج کیلئے تیار رہنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ حد تو یہ ہے کہ لویا کو قتل کرنے والوں نے ان کے دو دوستوں کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ایک کی موت کو ٹرین حادثہ اور دوسرے کو 8 ویں منزل سے پھینک کر خودکشی کا واقعہ قرار دیا گیا۔ بھیما کورے گاؤں میں تشدد کے بارے میں بھی جسٹس کولسے نے بتایا کہ یہ سب دلتوں کی بڑھتی طاقت کم کرنے کے لئے کیا گیا۔ بہرحال جسٹس کولسے ان بہادر و جرأت مند اور انسانیت دوست جہدکاروں میں شامل ہیں جنھوں نے فرقہ پرستوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ ایسے جہدکاروں میں تیستا شیتلواد، رام پنیانی، پرکاش راج، راج دیپ سردیسائی، رویش کمار، اروند کجریوال، جسٹس کاٹجو، سنجیو بھٹ، منی شنکر ایر، ہرش مندر ، کنہیا کمار، برندا کرت، پرکاش کرت، سیتارام یچوری، آر بی سری کمار، سوامی اگنی ویش شامل ہیں جو مسلمانوں کی لڑائی لّڑرہے ہیں جبکہ فرقہ پرستوں نے گاوری لنکیش، گویند پنسارا، ایم ایم کلبرگی، نریندر دابھولکر کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس کے باوجود جسٹس کولسے فرقہ پرستوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایسے انسان کو بس سلام کرنے جی چاہتا ہے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT