Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / سنگھ کے کارکن کے قتل میں چیف منسٹر کیرالا ملوث ‘ آر ایس ایس

سنگھ کے کارکن کے قتل میں چیف منسٹر کیرالا ملوث ‘ آر ایس ایس

خون کی سیاست ختم کرنے مرکزی و ریاستی حکومتیں مداخلت کریں۔ ‘ سنگھ کی قرار دادیں
حیدرآباد 24 اکٹوبر ( پی ٹی آئی ) آر ایس ایس نے آج الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کیرالا پنیاری وجئین سنگھ پریوار کے ایک کارکن کے 1969 میں ہوئے قتل میں ملوث ہیں۔ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ کیرالا میں کمیونسٹ کارکن سیاسی اغراض پر مبنی قتل کر رہے ہیں۔ سنگھ نے یہاں اپنے اکھل بھارتیہ کاریا کاری منڈل کا اجلاس منعقد کیا جس میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے جنوبی ہند کی ریاست میں سنگھ کے کارکنوں کے قتل پر مرکزی و کیرالا حکومت کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ سنگھ کے سہ پرچار پرمکھ جے نند کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا میں سنگھ کارکنوں پر 1942 سے حملے شروع ہوئے ہیں۔ پہلا قتل 28 اپریل 1969 کو ہوا جس میں ایک آر ایس ایس مکھیہ شکھشک راما کرشنن کو ہلاک کردیا گیا ۔ اس کیس میں پہلے ملزم پی وجئین تھے ۔ بعد میں وہ اب کیرالا کے چیف منسٹر بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے یہ کیس آگے نہیں بڑھ سکا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسی وقت سے ریاست میں قتل کی سیاست شروع ہوگئی تھی ۔ سنگھ کے سینئر کارکن اور نیشنل میڈیا کوآرڈینیٹر جی ایم ویدیا نے کہا کہ اجلاس میں ایک اور قرار داد داخلی انسانیت ‘ موجودہ عالمی بحران کا حل ‘ کے عنوان سے بھی منظور کی گئی ہے ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سات دہوں میں زائد از 250 نوجوان ‘ پھرتیلے اور ابھرتے ہوئے سنگھ کارکنوں کا قتل کردیا گیا ہے اور دوسرے سینکڑوں مرد و خواتین انتہائی خوفناک انداز میں زخمی کردئے جانے کے بعد بیکار ہوگئے ہیں۔ یہ سب کچھ ساری ریاست میں خون کے پیاسے سی پی ایم ورکرس نے کیا ہے ۔ انہیں پارٹی قیادت کی منظوری بھی حاصل تھی ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سنگھ کے بیشتر کارکنوں کی ہلاکتیں کنور ضلع میں ہوئیں جو سی پی ایم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT