Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / سنگین جرائم کے ملزمین کو انتخابی مقابلہ سے باز رکھنے کی تجویز

سنگین جرائم کے ملزمین کو انتخابی مقابلہ سے باز رکھنے کی تجویز

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا حلف نامہ ۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ پر آج سماعت
نئی دہلی 11 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ اس کے خیال میں مرکز کو یہ تجویز کیا جانا چاہئے کہ قوانین میں ترامیم کے ذریعہ ان افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے باز رکھا جائے جن پر سنگین جرائم کے مقدمات ہوں جن میں کم از کم پانچ سال سزا ہوسکتی ہو۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف عدالت میں فرد جرم عائد کردی جاتی ہے تو پھر انہیں انتخابات میں مقابلہ کیلئے نا اہل قرار دیا جانا چاہئے ۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ ایک حلفنامہ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ سرگرمی سے اقدامات کر رہا ہے تاکہ سیاست کو مجرمانہ سرگرمیوں سے پاک رکھا جاسکے اور اس تعلق سے سفارشات کی جاسکیں۔ اس نے تاہم کہا کہ سیاست کو مجرمانہ سرگرمیوں سے پاک کرنے کے مزید اقدامات اسی وقت موثر ہوسکتے ہیں جو قوانین میں ترامیم کی جاسکیں جو الیکشن کمیشن کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ جن کے خلاف ایسے جرائم کیلئے فرد جرم عائد کی گئی ہو جس میں پانچ سال کی سزا ہوسکتی ہے تو انہیں انتخابات میں مقابلہ سے روکا جانا چاہئے ۔ یہ مقدمات بھی انتخابات سے چھ ماہ قبل کے ہونے چاہئیں۔ اس مسئلہ پرسپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مصرا کی قیادت والی بنچ پر کل سماعت ہونے والی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو یہ اختیار دیا جانا چاہئے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے رجسٹریشن کو منسوخ کرسکے اور اسے سیاسی جماعتوں کے رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی برخواستگی کے تعلق سے مناسب احکام جاری کرنے کا مجاز قرار دیا جانا چاہئے ۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 1998 سے ہی سیاست کو جرائم سے پاک بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور اس نے مرکز کو اس سلسلہ میں تجاویز بھی روانہ کی ہیں ۔ یہ تجاویز 1998 میں روانہ کی گئی تھیں اور دوبارہ 2004 اور 2016 میں بھی یہ تجاویز روانہ کی گئی ہیں۔ کمیشن کی تجویز ہے کہ اس سلسلہ میں اقدامات اسی وقت موثر ہوسکتے ہیں جب حکومت کی جانب سے قانون میں ترامیم کی جائیں اور ضروری اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT