Friday , September 21 2018
Home / مضامین / سنگین مسائل پر مجرمانہ خاموشی طلاق ثلاثہ پر غیر معمولی سرگرمیاں

سنگین مسائل پر مجرمانہ خاموشی طلاق ثلاثہ پر غیر معمولی سرگرمیاں

محمد نعیم وجاہت
ملک میں ہر منٹ کم از کم 20 لڑکیوں اور خواتین کی عصمت ریزی کی جاتی ہے۔ خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے اور لڑکیوں و خواتین کو تحفظ فراہم کرنے پر حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی۔ ہندوستان شراب میں ڈوب رہا ہے جس سے راست طور پر خواتین متاثر ہورہی ہیں۔ معصوم لڑکیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہیں۔ شراب کے نشے میں دھت افراد مقدس رشتوں کو بھی پامال کررہے ہیں۔ اپنے شوق کی تکمیل کیلئے اپنی ہی لخت جگر نور نظر کو بازاروں میں فروخت کررہے ہیں۔ سماج میں بڑھتی ہوئی اِس لعنت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے بجائے حکومتیں صرف اور صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کی فکر کرتے ہوئے مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔ نہ اُسے بیویوں کو شرابی شوہروں کی مار پیٹ نظر آتی ہے نہ ہی بچوں کی فروخت دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے ملک میں بچہ مزدوری اور بندھوا مزدوری کا بھی سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ملک میں غریب لڑکیوں اور خواتین کو اچھی ملازمتوں کا خواب دکھاکر معاشرے کے دلال انھیں بڑے شہروں میں لاتے ہیں پھر انھیں جسم فروشی کے اڈوں پر فروخت کردیا جاتا ہے یا انھیں بڑے پیمانے پر چلائے جانے والے جسم فروشی کے نیٹ ورک و سینڈیکٹ میں پہنچادیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں ملک کے مختلف مقامات سے لاکھوں کی تعداد میں کمسن بچوں اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچیکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود حکومت اندھی، بہری اور گونگی بنی ہوئی ہے۔ ملک میں ہر سال کینسر، ٹی بی اور دیگر مہلک بیماریوں سے متاثر ہوکر لاکھوں افراد کی موت ہورہی ہے۔ ملک میں نظام صحت ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی آنکھوں پر غفلت کے پردے اور زبان پر بے حسی کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کو درپیش مسائل میں کئی ایک مسائل ہیں۔ مگر مودی حکومت خواب غفلت میں ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران اقوام متحدہ کی ایک ذیلی تنظیم فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں ہندوستانی غربت اور ان کی بھوک و افلاس پر مودی حکومت کو شرم دلائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر روز 194 ملین ہندوستانی بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ ہر سال 14 ارب ڈالرس کی غذائی اشیاء ضائع کردی جاتی ہیں۔ ملک کی 14.5 فیصد آبادی تغذیہ بخش غذا سے محروم ہے۔ عالمی سطح پر 2017 ء میں بھوک کا جو عشاریہ جاری کیا گیا 119 ممالک میں ہندوستان کو 100 واں مقام حاصل ہوا۔ ہندوستان میں ایسے لاکھوں بچے ہیں جو صرف چاول، جوار، نمک، ایک دو سبزیوں اور چند ایک پھلوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔ ملک میں ایسی لاکھوں مائیں ہیں جو ہفتے میں کم از کم چار مرتبہ رات کا کھانا یہ سوچ کر نہیں کھاتیں کہ اس کے بچے بھوکے نہ سوجائیں۔ لیکن افسوس کہ ملک کے اس قدر سنگین مسئلہ پر بھی مودی حکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وعدے کے مطابق ملازمتیں نہ ملنے سے نوجوان گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پر بھی مرکزی حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ مودی حکومت نے ملک میں ایک عجیب تماشہ برپا کر رکھا ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بانٹا اور کاٹا جارہا ہے۔ لو جہاد اور گھر واپسی کے بہانے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جانور کی حفاظت کے نام پر انسانوں کے قتل کو بڑا کارنامہ تصور کیا جارہا ہے۔ حکومت کیا کھائے اور کیا نہ کھائے اس کی فہرست تیار کررہی ہے۔ خوشحال اور سب سے بڑی جمہوریت رکھنے والے ہندوستان کے لئے ایسے رجحانات و نظریات خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان تباہی و بربادی ثابت ہونے والے رجحانات کے خلاف قانون سازی کرتے ہوئے امن و امان کو فروغ دینے کے بجائے مذہبی اُمور کو چھیڑتے ہوئے ملک میں بدامنی کی فضاء کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ہر مسئلہ کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے عدم رواداری کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ان رجحانات پر قابو پانے اور سنگین مسائل کو حل کرنے کے لئے قانون سازی کے بجائے مسلمانوں کے طلاق ثلاثہ کے غیر ضروری مسئلہ کو چھیڑا جارہا ہے۔ اس پر قانون سازی کی جارہی ہے۔ اگر ہندوستان کو حقیقت میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو مودی حکومت سب سے پہلے مذہبی منافرت، فرقہ پرستی، مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم کی روش کو ترک کرے۔ لیکن ٹھہریئے … مودی جی طلاق دینے کے قابل نہیں کیوں کہ طلاق وہ دیتے ہیں جن کی کوئی رفیق سفر ہوتی ہے۔ طلاق کی اصطلاح ہمارے وزیراعظم اور ان کے کابینی رفقاء نہیں جانتے۔ صرف مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانے اور انھیں فرقوں میں تقسیم کرنے کے لئے طلاق، طلاق، طلاق کی رٹ لگا رکھے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ طلاق ثلاثہ کے ملک میں جو بھی واقعات پیش آئے ہیں وہ سب کے سب صحیح ہیں۔

چند واقعات میں خواتین سے ناانصافی اور حق تلفی ہوئی ہوگی۔ چند ایک واقعات کو موضوع بناکر شریعت میں مداخلت کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ کیا ہندوؤں میں طلاق نہیں ہوتے۔ قانون موجود ہونے کے باوجود کیا ہندوؤں نے ایک سے زائد شادی نہیں کی۔ کیا ہندوؤں میں جائیداد اور اثاثہ جات کی تقسیم کو لے کر تنازعات نہیں ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہندوؤں میں بیواؤں کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہندوؤں میں بیواؤں کو دوسری شادی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ پر بل کی تیاری سے قبل مرکزی حکومت نے علمائے کرام سے مشاورت نہیں کی حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا بھی مناسب نہیں سمجھا جوکہ غور طلب بات ہے۔ تصرف بل کی منظوری کے لئے بی جے پی نے پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کی تائید حاصل کی اور مختلف جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کی گئی لیکن طلاق ثلاثہ بل پر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو خاطر میں نہیں لایا گیا یہاں تک کہ کسی کو ترمیمات پیش کرنے کی اجازت نہیں دی اور بل زبردستی پیش کیا گیا تو لوک سبھا میں اپنی عددی طاقت کے بل بوتے پر صرف دو تین گھنٹوں میں بل کو منظور کردیا۔ مگر کانگریس پارٹی نے راجیہ سبھا میں یو پی اے کی حلیف جماعتوں اور این ڈی اے کی بھی تین جماعتوں کے علاوہ یو پی اے اور این ڈی اے کا حصہ نہ رہنے والی جملہ 17 جماعتوں کا اتحاد بنالیا جس لوک سبھا میں شیر بننے والی بی جے پی راجیہ سبھا میں بلّی بن گئی۔ کانگریس کے بشمول دوسری جماعتوں نے بل کی مخالفت نہیں کی بلکہ ترمیمات کی مانگ کی۔ یا تو بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے یا پھر ووٹنگ کرانے کی مانگ کی۔ اگر ووٹنگ کرائی جاتی تو حکومت کو شکست ہوجاتی۔ اگر سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنا پڑا تو دوبارہ اس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا لازمی ہوجائے گا۔ بی جے پی نے اس بل پر کوئی فیصلہ کرے بغیر اس کو پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن تک ٹال دیا۔ اگر بی جے پی واقعی مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ چاہتی ہے تو وہ ترمیمات سے اتفاق کرتی۔ راجیہ سبھا کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ بی جے پی کو اپنے مفادات عزیز ہے۔ مسلم خواتین کو وہ ہندوتوا ووٹ بینک مستحکم کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ جو قانون تیار کیا گیا ہے۔ اس میں اگر نقائص کی نشاندہی کررہے ہیں تو اس کا جائزہ لینا حکومت کی ذمہ داری ہے جو خاتون کا طلاق ہورہا ہے اُس خاتون سے حکومت کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ جب دل کھٹے ہوجاتے ہیں، رشتوں میں دراڑ پڑتی ہے تب ہی طلاق ہوتا ہے۔ نئی قانون سازی میں ایسے افراد کو تین سال کی جیل کی سزا دی جارہی ہے اور ساتھ ہی جیل میں رہنے والے شخص پر بیوی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ جیل میں رہنے والے شخص کے لئے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ تین سال جس کی وجہ سے وہ جیل میں کاٹا ہے رہائی کے بعد اس کے ساتھ دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا کیسے ممکن ہے۔ طلاق دینے پر جیل جارہا ہے جب طلاق منظور ہی نہیں ہوئی تو کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔

یہ ایسے سوالات ہیں جس کا مودی حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ راجیہ میں دال نہ گلنے کے بعد بی جے پی کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے خلاف گمراہ کن الزامات عائد کررہی ہے۔ کیا کبھی بی جے پی نے مسلمانوں کو ہمدردی کی نظر سے دیکھا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور قابل غور بات یہ ہے کہ بی جے پی نے راجیہ سبھا میں جس دن طلاق ثلاثہ کا بل پیش کیا گیا تھا اُس دن راجیہ سبھا کی گیلری میں مسلم خواتین کو لاکر بٹھادیا گیا تاکہ مسلم خواتین کو گمراہ کیا جاسکے۔ کانگریس اور دوسری جماعتیں ان کے مفادات کا تحفظ کے لئے بننے والے قانون میں کس طرح رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ دہلی میں سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ مگر غور کرنے کا پہلو یہ ہے کہ جمعہ کو جب راجیہ سبھا کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا تو برقعہ پوش خواتین کو پارلیمنٹ کے روبرو احتجاج کرنے اور پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کیسے اور کیوں اجازت دی گئی۔ احتجاج کرنے والی خواتین کو پولیس نے گرفتار کیوں نہیں کیا۔ کس کے اشارے پر یہ سب تماشہ کیا جارہا ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا تمام برقعہ پوش خواتین مسلم خواتین تھیں یہ بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب شاہ بانو کے حق میں سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تھا، اُس وقت مسلم لیگ نے پارلیمنٹ میں فیصلے کے خلاف پرائیوٹ بل پیش کیا تھا۔ بحیثیت وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی نے لیگ کے قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے انھیں پرائیوٹ بل پیش کرنے سے دستبردار کرایا اور خود سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نئی قانون سازی کی۔ اس وقت مرکزی وزیر کے عہدہ پر فائز عارف محمد خان نے بطور احتجاج مرکزی وزارت اور کانگریس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بی جے پی کو جب راجیہ سبھا میں اپنی ساری تدابیر ناکام ہوتی نظر آئی تو انھیں سابق مرکزی وزیر عارف محمد خان یاد آگئے اور انھیں بی جے پی فوری طلب کرلیا۔ وہ پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں گھومتے پھرتے نظر آئے۔ بی جے پی اب انھیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کررہی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو منظور کرانے میں ناکام ہونے والی بی جے پی اس پر آرڈیننس بھی جاری کرسکتی ہے۔ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا بھی مثبت کے بجائے منفی رول ادا کررہا ہے۔ طلاق ثلاثہ کے حق میں رہنے والی چند خواتین کی زبردست تشہیر کی جارہی ہے۔ جبکہ شریعت کی تائید میں آواز بلند کرنے والی خواتین کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT