Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / سنگ بنیاد کے 56 سال بعد سردار سروور ڈیم قوم کے نا م معنون

سنگ بنیاد کے 56 سال بعد سردار سروور ڈیم قوم کے نا م معنون

سب سے زیادہ مخالفتیں اسی پراجیکٹ کی ہوئیں ‘ سازش کرنے والوں کا کچا چٹھا موجود :مودی
کیواڑیہ ( گجرات ) 17 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے سنگ بنیاد کے تقریبا 56 سال بعدسردار سروور ڈیم آج ایک حقیقت بن گیا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے قوم کے نام معنون کیا ۔ اس پراجیکٹ کو کئی تنازعات جھیلنے پڑے اور متاثرہ گاووں کے عوام نے اس کی شدت سے مخالفت کی تھی ۔ وزیر اعظم نے آج اپنی 67 ویں سالگرہ کے موقع پر اس پراجیکٹ کو قوم کے نام معنون کرنے کی پلیٹ کی نقاب کشائی انجام دی جبکہ طلبا یہاں مذہبی گیت گنگنا رہے تھے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے نرمدا ضلع میں اس پراجیکٹ کے مقام پر پوجا کی ۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری ‘ چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے ۔ اس ڈیم کا سنگ بنیاد 5 اپریل 1961 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رکھا تھا ۔ اس ڈیم کی وجہ سے گجرات کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں سو راشٹر ‘ کچھ اور شمالی گجرات کے علاوہ راجستھان کے بھی چند اضلاع کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ تاہم اس پراجیکٹ کو مکمل ہونے کیلئے 56 سال کا طویل وقفہ لگا کیونکہ اس پراجیکٹ کے خلاف عدالت میں مقدمات تھے اور متاثرہ گاووں کے لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔

یہ پراجیکٹ کئی تنازعات میں گھرا رہا اور اسے موافق اور مخالف کارکنوں کی کشاکش کا شکار بھی ہونا پڑا تھا ۔ بالآخر سپریم کورٹ نے 2000 میں اس کی تعمیر کی اجازت دیدی تھی ۔ یہ ڈیم دریائے نرمدا پر تعمیر کیا گیا ہے اور اسے بی جے پی قائدین کی جانب سے گجرات کی لائف لائین قرار دیا جا رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس پراجیکٹ سے تقریبا 131 شہری مراکز اور 9,633 گاووں کو پانی مل سکتا ہے اور تقریبا 18.54 ہیکٹر اراضی کو جو 3,112 گاووں میں پھیلی ہوئی ہے سیراب بھی کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم نریند رمودی کا یہ دورہ گجرات سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ریاست میں جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ ان کا اندرون دو ہفتے دوسرا دورہ گجرات ہے ۔ چند دن قبل انہوں نے گجرات میں وزیر اعظم جاپان شینزو ابے کی میزبانی کی تھی اور یہاں بلیٹ ٹرین پراجیکٹ کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پراجیکٹ گجرات کی خوشحالی کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔

چیف منسٹر وجئے روپانی نے اس پراجیکٹ کو گجرات کی لائف لائین قرار دیا ہے اور کہا کہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے گجرات میں کسانوں کی پیدا وار اور آمدنی دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی کئی وجوہات رہی ہیں۔ اس کے افتتاح کے بعد گجرات اور مدھیہ پردیش کے مابین پانی اور برقی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے ۔ 1964 میں نرمدا کے پانی کی گجرات اور مدھیہ پردیش کے مابین تقسیم پر پیدا ہوئے تنازعہ کو ختم کرنے حکومت ہند نے ڈاکٹر اے این کھوسلہ کی قیادت میں ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی تاہم حکومت مدھیہ پردیش کھوسلہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق نرمدا کے پانی کی تقسیم کیلئے تیار نہیں تھی اسی لئے 1969 میں نرمدا آبی تنازعات ٹریبونل کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی ۔

وزیر اعظم نے اس پراجیکٹ کو قوم کے نام معنون کرنے کے بعد کہا کہ دنیا میں کسی اور پراجیکٹ کو اتنی رکاوٹوں کا سامنا کرنا نہیں پڑا ہے جتنی اس پراجیکٹ کیلئے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انجینئرنگ کا کرشمہ ہے اور اس کو روکنے کیلئے کئی لوگوں نے سازشیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سردار سروور ڈیم کو دنیا میں سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ہم اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کا عزم مصمم رکھتے تھے ۔ دھبوئی کے مقام پر اظہار خیال کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ سردار سروور ڈیم ہندوستان کی نئی اور ابھرتی ہوئی طاقت کی مثال بن جائیگا اور اس کے نتیجہ میں علاقہ میں ترقی ہوگی ۔
یہ پراجیکٹ در اصل انجینئرنگ کا کرشمہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر کئی الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ کئی لوگوں نے اس پراجیکٹ کو روکنے کیلئے سازشیں کی تھیں لیکم ہم اس کو ایک سیاسی جدوجہد بنانے کا عزم رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس پراجیکٹ کو روکنے کی کوشش کر رہا تھے ان سب کا کچا چٹھا ان کے پاس موجود ہے لیکن وہ ان کا نام نہیں لیں گے کیونکہ وہ اس راستہ پر جانا نہیں چاہتے ۔ مودی نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے خلاف گمراہ کن مہم چلائی گئی تھی ۔ ورلڈ بینک نے اس پراجیکٹ کو فنڈ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ماحولیاتی تشویش ظاہر کرتے ہوئے قرض دینے سے انکار کردیا گیا لیکن ہم نے ورلڈ بینک کے بغیر ہی اس بڑے پراجیکٹ کو اپنے طور پر مکمل کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیم کی تعمیر انجینئرنگ کا ایک کرشمہ ہے اور متعلقہ شعبہ کے ہر طالب علم کو اس کا مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کو قوم کے نام معنون کرتے ہوئے وہ بہت خوش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT