Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سنہرا تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر کے ارکان خاندان تک محدود

سنہرا تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر کے ارکان خاندان تک محدود

ٹی آر ایس حکومت کو اقتدار سے بیدخلی کے لیے کانگریس قائدین کو جدوجہد کا مشورہ : آر سی کنٹیا
حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : سکریٹری انچارج تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا نے کہا کہ سنہرا تلنگانہ صرف کے سی آر کے ارکان خاندان تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لیے کانگریس کے تمام قائدین کو حکومت کے خلاف متحدہ جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا ۔ سیوا دل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آر سی کنٹیا نے کہا کہ جن مقاصد کی تکمیل کے لیے سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی تھی ۔ ٹی آر ایس اس کے برخلاف کام کررہی ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ تلنگانہ کی تحریک میں کے سی آر نے عوام کو سنہرے تلنگانہ کا خواب دکھایا تھا ۔ 4 سال بعد سنہرا تلنگانہ صرف کے سی آر کے ارکان خاندان تک محدود ہوگیا ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لیے کانگریس کے تمام قائدین کو نظریاتی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا مشورہ دیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو پارٹی کے تمام قائدین کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے ان سے رائے مشورہ کرتے ہوئے مستقبل کے فیصلے کرنے کی ہدایت دی اور کانگریس کے قائدین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اتم کمار ریڈی کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے پارٹی پروگرامس کو کامیاب بنانے کے لیے ان سے تعاون کریں ۔ کانگریس پارٹی میں سیوا دل کے قائدین کو خاصی اہمیت دینے کا تیقن دیا ۔ پارٹی کے لیے سنجیدہ کام کرنے والے قائدین سے مکمل انصاف کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی ملک کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے ۔ راہول گاندھی ملک میں نوجوانوں کی امید بن کر ابھر رہے ہیں بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آر سی کنٹیا نے کہا کہ کوویت میں موجود این آر آئیز کی مدد کرنے میں ناکام ہونے کا ریاستی و مرکزی حکومتیں پر الزام عائد کیا ۔ وہ اپنے ملک لوٹنا چاہتے ہیں مگر ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جارہا ہے ۔ کئی این آر آئیز کو ہندوستان پہونچنے کے لیے بھی ٹکٹ کے پیسے نہیں ہے ایسے مزدوروں کو حکومت سرکاری خرچ پر ہندوستان واپس لائے ۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے 20 مزدوروں کے ٹکٹ کا انتظام کیا گیا ہے ۔ کویت حکومت نے واپسی کے لیے 22 اپریل تک کی مہلت فراہم کی ہے ۔ اس سے قبل ریاستی و مرکزی حکومتیں اپنے باشندوں کو ملک لانے کے لیے ضروری اقدامات کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT