Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سنہری تلنگانہ کے خواب کو پورا کرنے مسلمانوں کو تحفظات ضروری

سنہری تلنگانہ کے خواب کو پورا کرنے مسلمانوں کو تحفظات ضروری

سماجی مساوات پر زور ، تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی کنوینر جیوتی کرن

سماجی مساوات پر زور ، تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی کنوینر جیوتی کرن

حیدرآباد۔14مارچ(سیاست نیوز)تلنگانہ کی اصلی تہذیب دکنی کلچر ہے جو ساری دنیا کے لئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ کی مثال تھا مگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے بعد منظم انداز میںدکنی تہذیب کو ہی تبدیل کر دیاگیا ۔ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ وکوکنونیر تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی شریمتی جیوتی کرن نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںمسلمانوں کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کے متعلق گفتگو میںیہ بات کہی۔جیوتی کرن نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل علاقہ تلنگانہ کے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے عید وتہوار میںشامل ہوتے تھے مگر آندھرائی حکمرانوں نے قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ تلنگانہ کو لوٹنے کے لئے سب سے پہلے تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کیا۔ انہوں نے آصف جاہی دور حکومت کا اس موقع پر ذکر کرتے ہوئے کہاکہ خاص طور پر آصف جاہ ہشتم کے دور تک علاقہ تلنگانہ میںمذہب ‘ ذات پات ‘ طبقہ یا علاقہ واری سیاست نے جنم نہیںلیاتھا مگر آندھرا ئی حکمرانوں کی ریاستی انتظامیہ میں غیر معمولی اجارہ داری نے علاقہ تلنگانہ کے سیاسی نقشے کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے تلنگانہ کی ترقی دکنی تہذیب کے احیاء کو لازمی قراردیا۔جیوتی کرن نے ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میںشامل کرنے کے بعد آصف جاہ ہشتم کی جانب سے حکومت ہند کو 65 لاکھ ایکڑ اراضی تحفہ دیا گیا جس کا کوئی پتہ نہیں ہے انہو ںنے کہاکہ تمام اراضی پر آندھرائی قائدین اورسرمایہ داروں کا قبضہ ہے

انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ صرفخاص اراضی کی بازیابی کے لئے موثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے وقف اراضیات کے ساتھ بھی کھلواڑ کا آندھرائی قائدین اور سرمائے داروں پر الزام عائد کیا اور کہاکہ لینکو ہلز کی وقف اراضی آندھرائی قائدین اور سرمائے داروں کے استحصال کی ایک مثال ہے۔ جیوتی کرن نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے سب سے بڑے نقصان کا سامنا علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں نے کیا۔ انہوں نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کی اس موقع پر مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ اٹارنی جنرل‘ سینئر ججس‘ پبلک پراسکیوٹر کے علاوہ اے پی ہائی کورٹ میںآبادی کے تناسب سے مسلمانوں کی نمائندگی موجود تھی مگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد انگریزی زبان سے عدم واقفیت کو بنیاد بناکر نہ صرف ہائی کورٹ بلکہ ریاستی انتظامیہ سے بھی مسلمانوں کو بیدخل کرنے کا کام کیاگیا۔ سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے دعوے کرنے والے قائدین اور تلنگانہ تحریک کے دوران مسلمانوں کے بشمول پسماندہ طبقات کے ساتھ مکمل انصاف کا وعدے کرنے والی سیاسی جماعتوں سے جیوتی کرن نے اس موقع پر اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سماجی مساوات اور سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خواب کو پورا کرنے کے لئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تمام شعبہ حیات میںتحفظات کی فراہمی لازمی ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس‘ کانگریس سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ نہ صرف سرکاری شعبوں بلکہ ایوانوں میںبھی مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے میںمددگار اقدام ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT