Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سنہرے تلنگانہ کیلئے سب کا ساتھ ضروری: چیف منسٹر

سنہرے تلنگانہ کیلئے سب کا ساتھ ضروری: چیف منسٹر

اقلیتوں کیلئے حکومت کے ٹھوس عملی اقدامات، ورنگل میں انتخابی جلسہ سے خطاب
ورنگل ۔ 17 ۔ نومر (سیاست نیوز) ورنگل کو ایجوکیشن ہب بنایا جائے گا ۔ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اقلیتوں کیلئے 1130 کروڑ کا بجٹ منظور کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں پانی اور برقی کے مسئلہ کو ختم کیا جائے گا ۔ عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی کو ووٹ دیں۔ اپوزیشن غلط بیانات دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، ورنگل ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ ان خیالات کااظہار چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے یونیورسٹی آرٹس ا ینڈ سائنس کالج میں منعقدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیف منسٹرنے مزید کہا کہ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ کو سنہرا تلنگانہ بنانے میں حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی جس کیلئے آپ تمام کا ساتھ چاہئے ۔ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب ملک میں مثالی تہذیب ہے ۔ یہاں پر سب آپس میں ایک دوسرے سے محبت سے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق کی حکومتیں اقلیتوں کیلئے صرف باتیں کرتے تھے لیکن تلنگانہ حکومت نے 1130 کروڑ کے بجٹ کی منظوری دی ہے ۔ اقلیتوں کی بھلائی کیلئے ٹی آر ایس حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ حکومت کسانوں کے ساتھ ہے۔ کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے پولیس ہوم گارڈ کی تنخواہوں کو بڑھایا ہے ۔ آنگن واڑی ورکرس کو سابق مسائل کو حکومت نے حل کرتے ہوئے ان کے مشاہرہ میں اضافہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے غریب عوام کیلئے چار ہزار کروڑ کی لاگت سے ڈبل بیڈ روم بناکر دیئے جائیں گے ۔ کلیانا لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے تحت  غریب لڑکیوں کی شادی میں 51 ہزار کی امداد دی جارہی ہے ۔ 30 ہزار کروڑ واٹر گرڈ اسکیم سے ہر گھر کوپانی سربراہی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اگر کام نہیں کرے تو ہم آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے ووٹ نہیں پوچھیں گے ۔ آج کوئی بھی پارٹی اس طرح کی بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل ، کھمم ، نلگنڈہ میں دو فصلوں کیلئے کسانوں کو آبی سربراہی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ 17 ہزار کروڑ کسانوں کے لون معاف کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مارچ کے بعد سے کسانوں کو 9 گھنٹے برقی کی سربراہی کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن کے مسئلہ کو مرکزی حکومت کے ایم پی کو بتائیں گے ۔ اس کے بعد مرکزی حکومت سے بات کی جائیگی ۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں میں نہ آئیں ، یہ لوگ غیر غلط باتیں کر رہے اور جئے پال ریڈی یہ الزام لگا رہے کہ میں تلنگانہ بنتے وقت کہاں تھا لیکن عوام واقف ہیں، میں نے تلنگانہ کیلئے کیا کام کیا ہے ۔ 14 سال مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے تلنگانہ کو حاصل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری ، محمد محمود علی ، ہریش راؤ ، کے ٹی آر ، مقامی رکن اسمبلی ڈی ونئے بھاسکر ، کونڈا سریکھا، گوئند سدھا رانی ، ریاستی وزراء ، ارکان اسمبلی کے علاوہ مسلم قائدین سید شاہ نورالحق قادری ، عبدالقادر ، سدی پیٹ اقلیتی قائد ، محمد نعیم الدین ، خواجہ سراج الدین ، محمد ابوبکر و دیگر موجود تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام جلسہ گاہ میں شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT