Saturday , December 15 2018

سنہرے تلنگانہ کی تعمیر کے خواہش مند افراد کی ٹی آر ایس میں شمولیت

انحراف اور لالچ کی ترغیبات افسوسناک ، ٹی آر ایس ایم ایل سیز کا بیان

انحراف اور لالچ کی ترغیبات افسوسناک ، ٹی آر ایس ایم ایل سیز کا بیان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تلگو دیشم پارٹی کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ عوامی نمائندوں کو مختلف لالچ کے ذریعہ پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دی جارہی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر اور رکن اسمبلی جی بالراجو نے آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اور اس کی قیادت نے کسی بھی پارٹی کے عوامی نمائندے کو شمولیت کی دعوت نہیں دی۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس اور تلگو دیشم سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کو ٹی آر ایس کی جانب سے عہدوں کی لالچ کا الزام بے بنیاد ہے۔ کے پربھاکر نے کہا کہ جن عوامی نمائندوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ، وہ حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے عوامی بھلائی کی اسکیمات سے متاثر ہوکر کئی عوامی نمائندوں نے اپنے طور پر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں اپنا حصہ ادا کرنے کیلئے عوامی نمائندے ٹی آر ایس کا رخ کر رہے ہیں۔ اس شمولیت کو انحراف یا لالچ کے ذریعہ شمولیت قرار دینا افسوسناک ہے۔ کے پربھاکر نے کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ حیدرآباد میں ترقیاتی کاموں کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دارالحکومت حیدرآباد کی ترقی کیلئے جو اقدامات کر رہی ہے، اس سے انتخابات کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے عوام حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں اور جب بھی انتخابات ہوں گے ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم اور کانگریس پارٹی کیلئے تلنگانہ میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ عوام ان دونوں جماعتوں کی مخالف تلنگانہ پالیسیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ٹی آر ایس ارکان مقننہ نے تلگو دیشم کے تلنگانہ قائدین دیاکر راؤ اور ایل رمنا پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کے اشارہ پر تلنگانہ حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ تلگو دیشم قائدین سے سوال کیا کہ وہ کس طرح مخالف تلنگانہ پارٹی میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ برائے ووٹ اسکام میں ریونت ریڈی کی گرفتاری کے بعد چندرا بابو نائیڈو کا ملوث ہونا تقریباً ثابت ہوچکا ہے لیکن اس اسکام سے بچنے کیلئے تلنگانہ حکومت پر فون ٹیاپنگ کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو اس معاملہ کی تحقیقات کر رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ رکن اسمبلی بال راجو نے تلگو دیشم قائدین کی جانب سے چیف منسٹر پر کی جارہی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی میں مصروف چندر شیکھر راؤ پر تنقیدوں سے تلنگانہ حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور عوام ان پارٹیوں کو سبق سکھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT